Wednesday, February 04, 2026
 

دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں، اسباب ختم کرکے روکا جا سکتا ہے، حافظ نعیم

 



امیر جماعت اسلامی  پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں، اس کے اسباب ختم کرکے روکا جا سکتا ہے۔ منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت سے قبضہ چھڑوانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ کشمیر اور فلسطین جیسے بنیادی قومی و عالمی مسائل پر حکمرانوں کی خاموشی اور کمزوری تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر کسی بھی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ غزہ سے متعلق کسی ایسے عالمی فورم کا حصہ بننا غلط ہے جو فلسطینیوں کے مؤقف کے خلاف ہو۔ حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان اس لیے قائم ہوا تھا کہ یہاں اللہ کا نظام نافذ ہوگا، عدل و انصاف قائم ہوگا، نہ کہ چند خاندان اقتدار اور وسائل پر قابض ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی رائے کو دباکر فارم 47 کے ذریعے حکومتیں مسلط کی جائیں گی تو ملک میں مسائل مزید بڑھیں گے۔ جماعت اسلامی چہروں کی نہیں بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز اور تمام قومیتوں کا شہر ہے، اسے لسانی یا خاندانی سیاست کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی پر قابض جعلی حکومت سے قبضہ چھڑوانا عوام کا حق ہے اور اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی عوامی طاقت سے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس سلسلے میں احتجاجی دھرنا حکومت روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ دہشت گردی کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ اس کے اسباب ختم کرکے روکا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر سہولت کیسے ملتی ہے، جو کہ ریاستی اور انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ بلوچوں اور قبائلی علاقوں کے عوام کو عزت، احترام اور انصاف درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بدترین گورننس کی مثال دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، جو نہ نظام چلا سکتی ہیں اور نہ ہی عوام کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا رہے، بلدیاتی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہےجب کہ آئین اس کی واضح ہدایت دیتا ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ برین ڈرین ہے، جہاں ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ٹیلنٹ ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ حاصل کیا جائے گا۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ یہ بیمار سوچ کی عکاسی ہے۔ اگر ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کیے جائیں تو قابل افراد باہر جانے پر مجبور نہیں ہوں گے۔ انہوں نے نجکاری پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اداروں کو کرپشن اور نااہلی سے تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بیچ کر کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گورننس واقعی بہتر ہے تو سرکاری اداروں کو آؤٹ سورس اور قومی اداروں کو فروخت کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے اور اس کا مقصد ذاتی یا گروہی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت اور ایک منصفانہ نظام کا قیام ہے۔ جماعت اسلامی میں مسلک، نسل یا زبان کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی اور ہر وہ شخص جو اللہ، رسول اور قرآن پر ایمان رکھتا ہے، اس جدوجہد کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کرکے ایک واضح لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان کو قابض قوتوں سے نجات دلائی جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل