Loading
پاکستان نے آئی سی سی سے مذاکرات کے بعد بھارت سے میچ کھیلنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیر اعظم سے منظوری لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے انکار نے کرکٹ کے ایوانوں میں اتنی کھلبلی کیوں مچا دی؟ کیوں آئی سی سی کو پاکستان سے مذاکرات اور پاکستان کو منانے کی ضرورت پیش آئی؟ ایک سوال سب کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان جیتا یا پاکستان ہارا؟ کیا ہم بھارت کو کوئی سبق سکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟
میں سمجھتا ہوں بھارت کو کافی سبق مل گیا ہے۔ بلکہ آئی سی سی جس مالی اثرورسوخ کی وجہ سے بھارت کی گود میں بیٹھا ہواتھا، وہاں یہ بات ثابت ہو گئی کہ پیسہ پاکستان کی وجہ سے آتا ہے۔ اکیلا بھارت کرکٹ کو کوئی پیسہ نہیں دے سکتا، جب تک پاکستان ساتھ نہ ہو۔ پاک بھارت میچ ہوگا تو پیسہ آئے گا۔ اکیلا بھارت جتنے مرضی میچ کھیل لے، پیسہ نہیں آتا۔ بھارت باقی ٹیموں کے ساتھ بھی جتنا مرضی کھیل لے، پیسہ نہیں آتا۔
پاکستان کے اس بائیکاٹ کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ آئی سی سی ٹورنمنٹ کی ساٹھ فیصد سے زائد آمدنی صرف پاک بھارت کرکٹ میچ سے آتی ہے۔ اس لیے اگر آئی سی سی ٹورنامنٹ میں پاک بھارت میچ نہیں ہوگا تو دیوالیہ نکل جائے گا۔ اسی دیوالیہ کو بچانے کے لیے آئی سی سی پاکستان آیا۔ بلا شبہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ پاکستان نے آئی سی سی کو اپنی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔
بھارت کو احساس دلایا ہے کہ وہ اکیلا کچھ نہیں۔ وہ اکیلے کسی ٹورنامنٹ کو کامیاب نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں پاکستان کے بائیکاٹ نے دنیا کرکٹ کی سوچ بدل دی ہے۔ پاکستان کی اہمیت سب کے سامنے آگئی ہے اور بھارت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ اگر جیت ہار کا فیصلہ کرنا ہے تو بلا شبہ پاکستان کی جیت ہوئی ہے۔
دنیا کرکٹ میں پاکستان کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہم بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہی تاثر تھا کہ اگر آئی سی سی سے فوائد لینے ہیں تو بھارت سے بنا کر رکھی جائے۔ لیکن اب پاکستان ایک مضبوط ملک کے طور پر سامنے آیا ہے کہ اگر پاکستان کسی کے ساتھ ہے تو بھی آئی سی سی سے فائدے لیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان چاہے تو آئی سی سی کا بازو مڑور سکتا ہے۔ آئی سی سی صرف بھارت نہیں پاکستان کا بھی محتاج ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آگے چل کر دنیا کرکٹ کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں۔ پاکستان کی عالمی کرکٹ میں ساکھ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
ویسے آئی سی سی کے لیے بہت آسان تھا، اگر پاکستان نے ایک میچ کا بائیکاٹ کیا ہے توا س میچ کے پوائنٹس بھارت کو مل جاتے۔ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل جاتے۔ جیسے آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو آؤٹ کیا تھا ویسے پاکستان کو بھی آؤٹ کیا جا سکتاتھا۔ بنگلہ دیش کو نشان عبرت میں بنایا جا سکتاتھا تا کہ کل کو کوئی ملک بھارت کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش نہ کرے۔ جیسے پہلے بنگلہ یش کو باہر نکالا گیاا۔
اب مزید پابندیاں بھی لگائی جا سکتی تھیں۔ بھارت بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کا بائیکاٹ کر کے اسے بھی نشان عبرت بنانا چاہتا تھا۔ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ اس کی قیمت بھارت اور آئی سی سی دونوں کو ادا کرنی تھی۔ بات سمجھنے کی ہے۔ بھارت اپنا نقصان کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اگر آئی سی سی میںسے پیسے کی بندر بانٹ ختم ہو جائے تو بھارت کی کرکٹ پر حاکمیت بھی ختم ہو جائے۔ حاکمیت پیسے کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کے بائیکاٹ نے پیسے کے کھیل کی تباہی کر دی تھی۔ اگر پیسے کو بچانا تھا تو پاکستان کو واپس لانا تھا۔
دوست یہ سوال بھی کر رہے ہیںکہ پاکستان کو نہیں ماننا چاہیے تھا۔ جو تباہی ہوتی ہونے دیتے۔ لیکن بات سمجھیں بنگلہ دیش بھی تباہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ اپنے مالی مفا دات کو تحفظ چاہتا تھا۔ وہ اپنے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان کا ساتھ چاہتا تھا۔ وہ تباہی کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ ہم اگر تباہی کر دیتے تو بنگلہ دیش کے دوست بھی ناراض ہو جاتے کہ ہمیں مراعات مل رہی تھیں ۔ پاکستان ہماری مراعات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ اس لیے ابھی بنگلہ دیش کو اس کا حق دلوانے سے پاکستان ایک ہیرو کی طرح دنیا کرکٹ میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے ایک دوست ملک کے لیے جرات مندانہ اسٹینڈ لیا ہے۔
لیکن تباہی کے ایجنڈے پر بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ہوتا ۔ مشکل تھا۔ پھر ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ بنگلہ دیش ہماری بجائے اکیلا ٓئی سی سی کے ساتھ چلا جاتا اور ہم تنہا رہ جاتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں لڑائی اتنی لڑی جا سکتی تھی جس میں سب کا فائد ہ ہو۔ نقصا ن کی لڑائی میں کوئی آپ کے ساتھ نہیں ہوتا۔
اب ہم بنگلہ دیش کے سچے دوست اور محسن ہیں۔ پھر بنگلہ دیش کے لو گ یہ کہتے کہ پاکستان نے بھارت سے اپنی دشمنی نکالنے کے لیے ہمارا استعمال کیا۔ آج بنگلہ دیش یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا۔پھر کہتے کہ نہیں پاکستان کا اپنا ایجنڈا تھا۔ وہ بھارت سے اپنی دشمنی نکال رہا تھا۔ ہمارا تو استعمال کیا گیا ہے۔ ہم معاملات طے کر لیتے۔ پاکستان نے مکمل تباہی کر دی۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں جتنی لڑائی لڑی گئی ہے۔ اتنی لڑی جا سکتی تھی۔ اس سے آگے لڑنے کا پھر موقع آجائے گا۔
مجھے امید ہے کہ بھارت کو عقل نہیں آئی ہوگی، وہ اس وقت مجبور ہوگیا ہے۔ شکست پاکستان کو نہیں بھارت کی کرکٹ حاکمیت کو ہو ئی ہے۔ چیلنج بھارت کی حاکمیت ہوئی ہے۔ آگے دنیا کرکٹ کے ممالک پاکستان کے موقف کی اہمیت کو سمجھیں گے۔ انھیں انداذہ ہوگا کہ پاکستان کی ناراضی بھی کھیل کو دیوالیہ کر سکتی ہے۔ اس لیے وہ بھارت کو سمجھائیں گے۔ بھارت کو اندھے ووٹ نہیں ملیں گے۔ میں سمجھتا ہوں آئی سی سی میں ایک بیلنس آگیا ہے۔ جس کے نتائج آگے دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک نئی شروعات ہوئی ہے۔ جس کے نتائج آگے کئی سال نظر آئیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل