Tuesday, February 10, 2026
 

کائنات کیا ہے؟ (دوسرا اور آخری حصہ)

 



ہم اس وقت نظریہ ارتقا پر بات نہیں کررہے ہیں جو اپنی جگہ الگ موضوع ہے بلکہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس کائنات کی عمر کے مقابل اس کی ذہانت کی عمر کتنی ہے۔ حیوان سے انسان اور پھر انسان کے مراحل میں اس کی ذہانت کی عمر کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ابھی چند سوسال پہلے تک یہ زمین کو کائنات کا مرکز سمجھتا رہا۔ موجودہ انسانی نسل جسے اصطلاح میں باشعور انسان کہا جاتا ہے اس کی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں پھر تاریخ اور لکھت پڑھت یا غور وفکر کی عمر تو تین چار ہزار سال سے زیادہ نہیں ہے تو پھر یہ اربوں سال پرانی کائنات کے بارے میں کیا جان پائے گا اور کتنا جان پائے گا اور پھر اس بے حد وبے کراں قدیم ترین کائنات کے خالق کے بارے میں کیا جان پائے گا۔اس سلسلے میں سفر کے دو راستے انسان نے اختیار کررکھے ہیں ایک عقل کا راستہ اور دوسرا عقیدے کا راستہ۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ عقل کے راستے پر بات تب مانی جاتی ہے جب وہ تجربے اور مشاہدے سے ثابت ہو جائے اور جو بات تجربے سے ثابت نہیں ہوجاتی اسے نہیں مانا جاتا ہے جب کہ عقیدے کے راستے میں پہلے مانا جاتا ہے پھر مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ کچھ خاص خاص قسم کے لوگوں یا ہستیوں کو مسیحا مان کر ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا جاتا ہے جیسے ہم نے امریکا برطانیہ وغیرہ کو خود اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ ساری دنیا کے بہت سے مقامات،اشیا اور لوگوں کو نہیں دیکھا ہوتا ہے لیکن کچھ ایسے لوگوں کے کہنے اور بتانے پر ہم ان کو مانتے ہیں کیونکہ بتانے والوں کے بارے میں ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ سچے ہیں۔یعنی بات ہمارے یقین کی ہے۔یہاں یہ بھی بتادیں کہ طبعیات کی عام اصطلاح میں سائنس کے بارے میں بھی یہ بات غلط ہے کہ وہ خدا کے منکر ہوتے ہیں، وہ اس حد تک منکر ہوتے ہیں کہ کوئی ہستی ابھی تک ان کے مشاہدے اور تجربے سے ثابت نہیں ہے لیکن منکر بھی نہیں کہ ایسی کسی ہستی کا’’نہ ہونا‘‘ بھی ثابت نہیں ہوا ہے کیونکہ انسان کے علم و ادراک سے یہ کائنات بہت بڑی ہے اور جب انسان اس کائنات کی حقیقت تک نہیں پہنچ پایا ہے کہ ایسی کوئی ہستی موجود نہیں ہے، پہلے میں نے اس کائنات بلکہ کاسموس کے بارے میں بتایا ہے کہ کتنی بڑی اور لامحدود ہے اور انسان اور اس کا ذہن اور علم اس کے مقابل کتنا محدود اور کتنا کم ہے کسی کا ایک خوبصورت شعر ہے ہر تخئیل سے ماورا ہے تُو ہر تخئیل میں ہے مگر موجود ترا ادراک غیر ممکن ہے عقل محدود تُو ہے لامحدود تو محدود سے لامحدود کا تصور ممکن ہی نہیں وہی قطرے کے مقابل سمندر، ذرے کے مقابل صحرا اور پتے کے مقابل جنگل کی مثال سامنے آجاتی ہے ۔ غالب نے کہا ہے ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے پر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے سوئیٹزرلینڈ کی ایک بہت بڑی مشین کے بارے میں سنا ہوگا، یہ مشین دنیا کے سارے ممالک کے اشتراک اور تعاون سے زمین کے اندر دو سو اکہتر کلومیٹر نیچے تک بنائی گئی ہے۔ پاکستان اسٹیل مل میں بھی اس کے کچھ حصے تیار کیے گئے اور کچھ پاکستانی بھی اس کے عملے میں شامل ہیں، اس مشین کے ذریعے یہ پتہ لگانا ہے کہ بگ بینگ کے اولین لمحے میں کیا ہوا تھا، کیا وجود میں آیا تھا۔کچھ عرصے پہلے اس کا ایک تجربہ تو ناکام ہوا تھا لیکن دوسرے تجربے کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ’’ اولین ذرہ‘‘دریافت کرلیا گیا ہے لیکن اس کے بعد پھر خاموشی ہے۔ مطلب یہ کہ ہنوزدلی دور است مشین اور اس کھوج سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ اہل طبعیات اس ہستی کے اگر قائل نہیں ہیں تو منکر بھی نہیں، تلاش اور کھوج اس چیز کی، کی جاتی ہے جس کی موجودگی کا یقین ہو۔اگر کسی چیز کے بارے میں یقین ہوجائے کہ نہیں ہے تو پھر اس کی تلاش اور ڈھونڈ کیوں؟۔مطلب یہ کہ طبعیات والے اس ہستی کے ان معنوں میں قائل بھی نہیں ہیں جن معنوں میں منکر بھی نہیں جیسا کہ عام طور پر آدھے ادھورے علم والے سمجھتے یا کہتے ہیں اس کیفیت اور صورت حال کو اصطلاح میں ’’لاادری‘‘ کہا جاتا ہے یعنی معلوم نہیں یا میں نہیں جانتا۔اب’’میں‘‘ نہیں جانتا کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز نہیں ہے بلکہ کہنے والا اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ ’’میں‘‘ نہیں جانتا اس کے معنی یہ نہیں کہ ’’وہ‘‘ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اگر گہرائی اور گیرائی سے سوچا جائے تو انسانی ذہن اس سے بھی زیادہ کم،بے بضاعت نارسا اور محدود ثابت ہوجاتا ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں، مثال کے طور پر اگر یہ سب کچھ کسی ہستی یا قوت نے پیدا کیا ہے اس ہستی کو کس نے پیدا کیا ہے اور اگر وہ خود بخود پیدا ہوئی جیسا کہ ہم کہتے ہیں خود بخود۔ہندی اصطلاح میں اسے ’’سوئم بھو‘‘ کہاجاتا ہے یعنی خود کو خود پیدا کرنے والا۔کچھ مذاہب میں کہا جاتا ہے کہ وہ اول بھی ہے آخر بھی ہے نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا انسانی ذہن تو ہر چیز کا آغاز اور اختتام جاننا چاہتا ہے ایک اور بات یہ کہ اس سے پہلے کچھ نہ تھا اگر کچھ نہ تھا تو کیا تھا۔یا ازل اور ابد کے الفاظ بھی ہم سنتے ہیں لیکن ازل کہاں سے اور ابد کہاں تک۔ہر طرف اور ہر طریقے سے سوچیے کہ’’کچھ نہ تھا‘‘ اور’’کچھ نہیں ہوگا‘‘ کے معنی کیا ہیں۔ہم نے بگ بینگوں کے بارے میں بتایا کہ طبعیات والے بتاتے ہیں کہ ذرہ پھٹا ہے۔ اس میں زمان و مکان یعنی کائنات نکل کر شروع ہوجاتی ہے یہ کائنات پھیلتی ہے پھیل رہی ہے پھر اس کا پھیلنا رُک جائے گا اور سمٹنا شروع ہوجائے گا یعنی انتشار کے بعد ارتکاز ایک مرتبہ پھر یہ کائنات سمٹ کر مرتکز ہوکر اس ذرے میں سما جائے گی اور ارتکاز کی انتہا پر پہنچ کر پھر پھٹ پڑے گا اور دوسری کائنات شروع ہوجائے گی یہاں تک تو انسانی علوم نے بتادیا ہے لیکن یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ ذرہ پھیلنے اور سمٹنے کا سلسلہ کب سے ہے اور کب تک چلے گا۔یہ کب سے شروع ہوا ہے اور کب تک جاری رہے گا یعنی پھر وہ ازل اور ابد۔آغاز و انجام کا سوال جو انسانی ذہن،عقل،علم تخئیل اور ادراک سے باہر اور اس صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ اپنی بے بضاعتی اور کائنات کے مقابل اپنی نارسائی تسلیم کرکے صرف اس جانکاری پر قانع ہو جائے جو ہمیں حاصل ہوسکتی ہے یا ہوچکی ہے یعنی وہ جسے خدا سپریم پاور کہیے کچھ بھی کہیے یا سمجھیے۔ ہماری انسانی رسائی سمجھ اور تخیل و ادراک سے باہر ہے بڑی ہے لامحدود ہے لا ادراک ہے۔اس سلسلے میں ایک مثال تو مولانا روم نے۔موسیٰ اور گڈریے کی دی ہے کہ گڈریے کے خیال میں وہ ایسا ہی ہے جو وہ سمجھتا ہے اور موسیٰ کے لیے وہ وہ ہے جو وہ سمجھتا ہے، دوسری مثال چاراندھوں کی ہے جنھوں نے ہاتھی کو ٹٹولا تھا اور ہر ایک نے ہاتھی کو دوسرے سے مختلف بتایا تھا۔وہ چاروں سچے تھے کہ جو وہ بتارہے تھے وہ بھی ہاتھی تھا لیکن پورا ہاتھی نہیں تھا کیونکہ وہ اندھے پورے ہاتھی کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ہم انسان تو جب اس کا تصور کریں گے تو ایک انسانی شباہت لیے ہوگا زیادہ سے زیادہ اسے بہت بڑا بنادیں گے اعضا میں کمی پیشی کردیں گے لیکن بنیادی طور پر اس میں انسانی شباہت ہی بھریں گے چنانچہ اکثر دانا لوگ کہتے ہیں کہ اگر سارے جانوروں کو زبان مل جائے اور خدا کے بارے میں پوچھا جائے تو سب اسے اپنی طرح بتائیں گے۔حافظ شیرازی کا ایک شعر ہے معشوق چوں نقاب زرخ پر نمی کنند ہرکس حکایتے بہ تصور چراکنند ترجمہ۔معشوق جب اپنے چہرے سے نقاب نہیں ہٹاتا تو لوگ اپنے اپنے تصور سے کہانیاں کیوں بناتے ہیں۔ایسی حالت میں ہمیں وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو وہ خود ہمیں بتاتا ہے عقیدے اور وحی کا راستہ۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان کے لیے اس کا تصور و ادراک ممکن نہیں اس کا جتنا برتن ہے اتنا ہی پانی اس میں ڈالنا چاہیے زیادہ ڈالیں گے تو وہ چھلک کر باہر نکل جائے گا۔اب قرآن کو لے لیجئے اس میں انسان کو اتنا ہی علم دیا گیا ہے جو اس کے لیے ضروری ہے اور اس کے برتن کے مناسب ہے۔اپنے دائرے سے نکل کر واہی تباہی پھیرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے،جتنی اس کی جھولی ہے اتنے پھول توڑنا چاہیے ،سارا باغ جھولی میں ڈالنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل