Wednesday, February 11, 2026
 

خدمت خلق، خالق کو پانے کا زینہ

 



اسلام دین فطرت، مکمل ضابطہ حیات اور اپنے بندے سے ستر پیار کرنے والی ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب العالمین کا پسندیدہ دین جو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب خاتم النبیین حضرت محمد مجتبیﷺ کے ذریعے ہمیں عطا کیا۔ اسلام میں 5 سے 10 فیصد عبادات (حقوق اللہ) اور 90 سے 95 فیصد تک معاملات (حقوق العباد) ہیں۔ میرے مرشد و مربی پیر طریقت رہبر شریعت ولی ابن ولی شیخ المفسرین و المحدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ فرماتے تھے کہ خالق کو پانے اور خالق تک پہنچنے کا زینہ خدمت خلق ہے اسی فکر کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی زندگی میں انھوں نے دارالحمد ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا جو تاحال خدمت خلق میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ قرآن و سنت کے داعی و علمبردار علماء کرام و مشائخ صرف منبر و محراب اور خانقاہوں تک محدود نہیں رہے وہ ہمیشہ خلق خدا کے دکھ سکھ کے ساتھی، مظلوموں کی آواز اور مشکل گھڑی میں امید کی کرن بن کر سامنے آئے۔ دین اسلام کی حفاظت، قرآن و سنت کی ترویج کے ساتھ وہ فلاح انسانیت، سماجی انصاف اور خدمت خلق کے داعی رہے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ گزشتہ سال بونیر میں کیا گیا۔ جب اگست 2025 میں ضلع بونیر میں شدید مون سون کے تباہ کن بارشوں، کلاؤڈ برسٹ (cloudburst) اور شدید طوفانی سیلابی ریلوں نے شمالی پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں گھروں، سڑکوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرکے ناقابل یقین و ناقابل برداشت تباہی مچائی، سرکار اور سرکاری مشینری کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی تو دین اسلام کے داعی علماء کرام نے کہیں راشن تقسیم، کہیں خیمہ بستیاں قائم کیں، علاج و معالجے کا انتظام، بے سہارا متاثرین کی کفالت اور بحالی کے کارنامے سرانجام دئے، جو دکھی انسانیت اور مخلوق خدا کے لیے علماء کرام کے درد دل اور احساسِ ذمے داری کا مظہر ہے۔ قدرتی آفات کے بعد متاثرین کی بحالی کا فریضہ فلاحی تنظیمیں اور افراد انجام دیتے ہیں مگر علماء کرام متاثرین کی عزت نفس کا جو خیال رکھتے ہیں وہ ان کو سب سے ممتاز کر دیتا ہے۔ قدرتی آفات امیر و غریب میں تمیز نہیں کرتے مگر غریبوں کو اکثر اوقات سڑک پر لے آتے ہیں، خاص کر خواتین اور بچوں کی حالت زار ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ سانحہ بونیر میں علماء نے صرف بنیادی ضروریات کے لیے مالی مدد نہیں کی بلکہ کئی مقامات پر غریب خاندانوں کی بچیوں کی باعزت شادیاں کروا کر یہ پیغام دیا کہ خدمتِ خلق عزتِ نفس کے تحفظ اور پدری جذبے کے ساتھ متاثرین کے تمام حقوق و ضروریات کا نام ہے جو خاموشی کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ مدارس و مساجد آج بھی اپنی روایات کے مطابق فلاح و بہبود اور خدمت خلق میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ غریب طلبہ کی کفالت، یتیم بچوں کی سرپرستی، بیواؤں کی مدد اور مصیبت زدہ خاندانوں کی بحالی، یہ سب وہ خدمات ہیں جو علماء اور دینی طبقات خاموشی سے انجام دے رہے ہیں۔ علماء کرام کی اکثریت خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں مگر کچھ کو اللہ خدمت خلق کے لیے چن لیتا ہے اور آج کے اس پْرآشوب دور میں اللہ رب العزت کے چنیدہ علماء کرام میں ایک جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے بونیر کے سماجی راہنما اور نوجوان عالم دین مفتی فضل غفور صاحب ہیں، جن کی حیران کن خدمات اور صلاحیتیں گزشتہ سال بونیر میں سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کی تباہ کاریوں کے وقت سامنے آئیں۔ مفتی فضل غفور کی خدمت خلق کا سفر شہدا کے تجہیز و تکفین، مساجد، گھروں، ہجروں، بازاروں اور دفاتر کی صفائی سے ہوتا ہوا، متاثرین کے لیے 55 سے زیادہ کاروباروں کو بحال کرنے اور بیسیوں منہدم گھروں کے تعمیر تک جاپہنچا۔ مفتی فضل غفور صاحب کی اس خدمت خلق پر سیاست یہاں تک کہ مذہب بھی اثرانداز نہیں ہوا بلاتفریق سیاسی جماعت و مذہب متاثرین کی خدمت بلا امتیاز کی جس کا فقدان ہمیں اپنی سیاسی جماعتوں، روایتی سیاستدانوں خاص کر حکمرانوں میں نظر آتا ہے حالانکہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے لیکن بدقسمتی سے اکثر اس سلسلے میں غفلت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ بونیر کے آفت زدہ متاثرین کی امداد اور بحالی کے تناظر میں دیکھا جائے تو تمام سیاسی جماعتیں اور ریاست مل کر بھی مفتی فضل غفور جیسا ایک کردار پیش نہیں کرسکے۔ مصیبت میں گھرے لوگوں کے لیے مفتی فضل غفور امید کی کرن اور اللہ کی رحمت بن کر نمودار ہوئے، سیلاب کے کیچیڑ اور پتھروں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے، زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے، بھوکوں کو کھانا کھلانے، شہدا کی لاشوں کو نکالنے، غسل دینے، جنازے پڑھنے اور تجہیز و تدفین کے بعد آج تک آرام سے نہیں بیھٹے۔ گھروں، مساجد، ہجروں اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی صفائی کے بعد خدمت کا سفر رکنے کا نام نہیں لے رہا، ایک مفتی فضل غفور پوری ریاست پر غالب نظر آرہا ہے۔ انکی جانب سے بونیر کے عوام کے لیے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے مکمل ہونے والا "اپنا گھر" منصوبہ عصر حاضر میں خدمت خلق کی شاندار مثال ہے۔ مفتی فضل غفور نے ثابت کر کے دکھایا کہ خدمت خلق کے لیے وزارت نہیں، نیت چاہیے۔ اختیارات نہیں، اخلاص چاہیے اور اقتدار نہیں، احساسِ ذمے داری درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے جب مفتی فضل غفور سے دکھی انسانیت کی خدمت کا کام لینے کا ارادہ کیا تو پھر ان کے لیے راہیں ایسے کھول دیں کہ بات اپنا گھر منصوبہ تک ہی محدود نہیں رہی، انھوں نے متاثرہ علاقوں میں راشن، مالی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی میں سرگرم کردار ادا کیا اور مقامی سطح پر امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا۔ مفتی فضل غفور کی خدمات کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور کم بیان کیا جانے والا پہلو سیلاب سے متاثرہ غریب خاندانوں کی بچیوں کی باعزت شادیاں ہیں۔ سیلاب کے بعد جب بے شمار گھرانے مالی بدحالی کا شکار ہو گئے اور بچیوں کی شادیاں ایک بوجھ بن کر رہ گئیں، ایسے نازک وقت میں وہ آگے بڑھ کر ان خاندانوں کا سہارا بنے۔ اجتماعی اور انفرادی سطح پر بچیوں کی شادیوں کا اہتمام کیا گیا، جہیز، گھریلو سامان اور دیگر ضروری اخراجات کا بندوبست کیا گیا تاکہ غربت یا مجبوری کسی خاندان کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کر سکے۔ یہ اقدام محض مالی معاونت نہیں بلکہ معاشرتی ذمے داری، دینی شعور اور انسانی ہمدردی کی اعلیٰ مثال ہے۔ سیلاب کے مصیبت زدہ متاثر اور یتیم بچوں کے لیے فری بازار انکا تازہ اور دل موہ لینے والا کارنامہ ہے۔ 123 یتیم بچوں کے سر پر پدری احساس کے ساتھ دست شفقت رکھ کر، انگلی سے پکڑ کے لگائے گئے مفت بازار میں شاپنگ کروائی۔ کپڑے، جوتے کھلونوں کے ساتھ ڈرائی فروٹ، چاکلیٹ اور ٹافیاں سب کچھ دیا گیا۔ یہ در حقیقت معصوم بچوں کے غمزدہ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا اہتمام تھا۔ قدرتی آفات کے بعد امدادی سرگرمیوں کو اکثر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن مفتی فضل غفور نے خاموش خدمت کرکے نئی مثال قائم کر دی۔ مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر یہ سب کچھ ممکن تھا تو پھر وہ نمائندے کہاں تھے جنھیں عوام نے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا؟ کہاں تھے وزیر اعلی، گورنر، ایم این اے، ایم پی اے، وزرا، مشیران، اور وہ سب جن کے نام تختیوں اور قدآور تصاویر بینرز اور ہورڈنگ پر نظر آتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جن کے پاس وسائل تھے، ان کے پاس نیت نہ تھی اور جن کے پاس نیت تھی، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی شان کریمی کے مطابق وسائل عطا کر کے پوری ریاست پر بھاری ثابت کردیا۔ مفتی فضل غفور نے سرکاری فنڈ اور ریاستی پروٹوکول کے بغیر کئی منصوبے مکمل کیے۔ ان کے پاس طاقت کا غرور، شہرت کی خواہش اور نہ اقتدار کی ہوس تھی، ان کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ عوام کا اعتماد، کار سازگار و مشکل کشا رب العالمین پر یقین کامل، نصرت الہی اور خدمت خلق کو عبادت سمجھنے کا جذبہ تھا۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک عالمِ دین کو ایک پیشہ ور سیاست دان سے ممتاز رکھتا ہے۔ سیاست دانوں کی نظریں اگلے الیکشن اور خوف خدا سے معمور عالمِ دین کی نگاہ آخرت اور اللہ کی رضا پر ہوتی ہیں۔ مفتی فضل غفور کی شاندار خدمات ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے اور حکمرانوں کے لیے نمونہ ہے۔ اللہ کریم انھیں اس کار خیر کی اپنی شان کریمی کے مطابق دین و دنیا میں اجر عظیم عطا کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل