Loading
قائد آباد اسپتال چورنگی کے قریب کار سوار شہری کی ٹریفک پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز شیخ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے فون ریسیو کرنے سے گریز کیا تاہم ڈی ایس پی ٹریفک کاشف ندیم نے بتایا کہ واقعے کو ایس پی ٹریفک ڈسٹرکٹ ملیر طاہر خان دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس اہلکار ابرار مہران ہائی وے ٹریفک پولیس چوکی پر تعینات ہے جسے اسپتال چورنگی کے قریب ٹریفک کنٹرول کرنے کے دوران کار سوار شہری سے تلخ کلامی ہوئی جس پر کار سوار نے ٹریفک پولیس اہلکار کو تھپڑ مار دیاْ
ٹریفک پولیس واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی کر رہی ہے۔ ویڈیو میں سفید رنگ کی گاڑی میں سوار شہری اور ٹریفک پولیس اہلکار آپس میں الجھتے ہوئے دکھائی دیئے جبکہ کار سوار کو ٹریفک پولیس اہلکار کو مغلظات بھی دیتے ہوئے بھی سنا گیا۔
اس دوران کار سوار شہری نے ٹریفک پولیس اہلکار کو تھپڑ مار دیا۔
بعد ازاں آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیا اور متعلق افسران کو ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی جس پر قائد آباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے عمیر نامی ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ دوسرا ملزم فرار ہوگیا۔
آئی جی سندھ نے ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک سے تفصیلات طلب کرلی۔
ایس ایچ او قائد آباد محمد علی شاہ نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ ٹریفک سیکشن مہران ہائی وے کے ایس او رجب علی کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر 126 /2026 درج کرلیا گیا ہے۔
مدعی کے مطابق اسپتال چورنگی پر ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولیس اہلکار ابرار حسین سے دو افراد بد تمیزی اور گالم گلوچ کررہے تھے۔ ابرار حسین نے بتایا کہ ٹریفک کنٹرول کرنے کے دوران لاپرواہی سے کار چلانے والے شہری کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سے ڈرائیور اور اس کا ساتھی نکل آئے اور گالیاں دینا شروع کردیں منع کرنے پر ڈرائیو ر نے گریبان پکڑلیا جس سے میری وردی کے بٹن ٹوٹ گئے، پھر انہوں نے مجھے تھپڑ مارے ۔
اسی دوران رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ ایک ملزم عمیر کو پکڑلیا۔ فرار ہونے والے کا نام علی اویس معلوم ہوا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل