Loading
عالمی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام محض کسٹمز یا تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ بقا و سلامتی کا مسئلہ ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی راستوں کو بند کرنا اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک بہترین فیصلہ ہے، پاکستان کا موقف ہے کہ کابل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں رکاوٹ صرف دہشت گردی ہے۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل پہاڑ پور کے علاقے وانڈہ بانڈھ میں دہشت گردوں کے خلاف پولیس کے سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کردی جس سے ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکار شہید جب کہ ایس پی، ڈی ایس پی اور دواہلکار زخمی ہوگئے، پولیس کی جوابی فائرنگ سے چار دہشت گرد ہلاک ہوئے، ادھر بنوں پولیس پر دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے تین دہشت گرد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔
گزشتہ چند برسوں میں جب یہ گمان کیا جانے لگا تھا کہ دہشت گردی کا عفریت پسپا ہو چکا ہے اور ریاستی رِٹ نسبتاً مستحکم ہوگئی ہے، عین اسی وقت سرحدوں کے اُس پار بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال نے ایک بار پھر ہمارے داخلی امن کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر محض چند واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت بحران کا مظہر ہے جس کی جڑیں خطے کی جغرافیائی سیاست، افغان عبوری حکومت کی پالیسیوں، عالمی طاقتوں کے مفادات اور ہمارے اپنے داخلی تضادات میں پیوست ہیں۔ یہ لہر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی وقتی کمزوری کا فائدہ اٹھانے والا وہ سایہ ہے جو ریاستی غفلت، علاقائی بے یقینی اور فکری انتشار میں دوبارہ جنم لیتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کو بعض حلقوں نے خطے میں استحکام کی نوید سمجھا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ ایک طویل جنگ کے بعد افغان سرزمین امن کی طرف لوٹے گی، شدت پسند گروہوں کو لگام دی جائے گی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کا نیا باب کھلے گا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، شمولیتی سیاسی ڈھانچے کی عدم موجودگی اور عالمی برادری کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے افغانستان کو داخلی و خارجی بحران کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ اقتصادی بدحالی، سفارتی تنہائی اور حکمرانی کے مسائل نے ایک ایسا خلا پیدا کیا ہے جسے شدت پسند عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال محض سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست سلامتی کا چیلنج ہے۔ سرحد کے اُس پار موجود شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور پاکستانی علاقوں میں دراندازی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین کو مکمل طور پر محفوظ اور غیر جانبدار نہیں بنایا جا سکا۔ عالمی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام تجارت یا کسٹمز کا معاملہ نہیں بلکہ بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔
جب ریاست کو اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا خطرہ لاحق ہو تو سرحدی بندش یا سخت نگرانی ایک ناگزیر حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔حالیہ واقعات اس خطرے کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پہاڑ پور میں پولیس کے سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکاروں کی شہادت اور متعدد افسران کا زخمی ہونا اس امر کی علامت ہے کہ دشمن نہ صرف منظم ہے بلکہ ریاستی اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بنوں میں پولیس پر حملوں کی کوشش اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی بھی اس جاری کشمکش کا حصہ ہے۔ یہ واقعات محض سیکیورٹی رپورٹس نہیں بلکہ اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔
اس نئی لہر کے اسباب کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے۔ افغانستان گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ سوویت مداخلت، مجاہدین کی سرپرستی، خانہ جنگی، نائن الیون کے بعد امریکی حملہ اور پھر بیس سالہ جنگ کے بعد اچانک انخلا، یہ سب عوامل افغانستان کو ایک مستقل عدم استحکام کی طرف لے گئے۔ ہر دور میں مختلف گروہوں کو عسکری اور مالی حمایت ملی اور ہر مرحلے پر شدت پسند بیانیے کو تقویت حاصل ہوئی۔ جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے کسی خطے کو پراکسی میدان میں بدل دیتی ہیں تو اس کے اثرات سرحدوں سے ماورا پھیلتے ہیں۔
امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والا خلا سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ افغان معیشت کمزور تھی، ریاستی ادارے غیر مستحکم تھے اور عالمی پابندیوں نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ اس خلا میں شدت پسند گروہوں نے خود کو دوبارہ منظم کیا۔ بعض گروہ نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر طالبان کے قریب رہے، بعض نے موقع پرستی کا راستہ اختیار کیا اور کچھ نے علاقائی دشمنیوں کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رکھا، اگر ایک ریاست اپنے تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول قائم نہ رکھ سکے تو غیر ریاستی عناصر کے لیے گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے چیلنج دہرا ہے۔ ایک طرف اسے سرحد پار دراندازی اور دہشت گردی کا سامنا ہے، دوسری طرف اسے لاکھوں افغان مہاجرین، سرحدی تجارت اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ سرحد کی مکمل بندش بظاہر ایک سخت قدم ہے، مگر جب ریاستی سلامتی کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو تو ایسے فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ عالمی تجزیہ نگاروں کی جانب سے اس اقدام کو جائز قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ مسئلہ حقیقی اور سنگین ہے۔تاہم دہشت گردی کا مسئلہ صرف سرحدی نگرانی سے حل نہیں ہوتا۔ اس کے اندرونی اسباب بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
فکری محاذ پر بھی ہمیں سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ شدت پسند گروہ مذہب کی مخصوص تعبیر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو ایک رومانوی تصورِ کے ذریعے متاثر کرتے ہیں اور ریاست کے خلاف بغاوت کو مقدس فریضہ بنا کر پیش کرتے ہیں، اگر اس بیانیے کا توڑ مدلل، معتدل اور جامع مذہبی و فکری مکالمے سے نہ کیا جائے تو دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا مشکل امر ہے۔ علما، دانشوروں اور تعلیمی اداروں کو اس فکری جنگ میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
دہشت گردی کی نئی شکلیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرتی، فنڈنگ اور پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز مواد کے ذریعے ریاستی اداروں پر عدم اعتماد پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی جنگ کسی بھی روایتی حملے سے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کا ہدف معاشرتی ہم آہنگی ہے۔ ہمیں سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل نگرانی اور میڈیا لٹریسی پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔
علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان میں بدامنی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ ایران، تاجکستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی سرحد پار خطرات سے دوچار ہیں، اگر افغانستان ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے تو پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ علاقائی ممالک مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں، انٹیلی جنس شیئرنگ کو مؤثر بنائیں اور افغان حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
افغان طالبان کے لیے بھی یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ انھیں طے کرنا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی تنہائی اور داخلی بحران کے راستے پر چلتے رہیں گے یا علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کا راستہ اختیار کریں گے۔ اگر وہ شدت پسند گروہوں کو کھلی یا خاموش پناہ دیتے رہے تو نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ خود افغانستان بھی مسلسل عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ عالمی برادری کی طرف سے تسلیم کیے جانے اور اقتصادی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کریں۔دہشت گردی کی نئی لہر ایک وارننگ ہے، یہ ہمیں بتا رہی ہے کہ سلامتی ایک مستقل عمل ہے، کوئی حتمی منزل نہیں۔ ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور اپنے گھروں کو بھی مضبوط بنانا ہے۔
ہمیں بیرونی مداخلت کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور داخلی کمزوریوں کا علاج بھی۔ یہ ایک ہمہ جہت جدوجہد ہے جس میں عسکری طاقت، سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور فکری پختگی سب کو یکجا کرنا ہوگا۔اگر افغان حکومت دانش مندی کا مظاہرہ کرے، عالمی برادری ذمے دارانہ کردار ادا کرے تو خطہ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر بدامنی کا یہ دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ فیصلہ کن لمحہ آ پہنچا ہے۔ اب یا تو ہم متحد ہو کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں گے یا پھر انتشار کی قیمت چکاتے رہیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل