Thursday, February 12, 2026
 

غیبت باعث ہلاکت

 



اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمھیں ناگوار ہوگا اور اﷲ سے ڈرو۔ بے شک! اﷲ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔‘‘ (کنز الایمان) اس آیت پاک میں اﷲ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے اور غیبت کرنے والے کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے۔ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’غیبت سے اجتناب کرو، کیوں کہ غیبت زنا سے زیادہ بُری چیز ہے ۔ زنا کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے لیکن غیبت کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ آدمی جس کی غیبت کی ہو وہ معاف نہ کر دے ۔‘‘ (کیمیائے سعادت) حدیث شریف کا مفہوم: ’’غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے ایسے بات کہی جائے جو اسے ناگوار گزرے ۔ اگر وہ بات سچی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان۔‘‘ (خزائن العرفان) اس سے معلوم ہُوا کسی کی عدم موجودی میں ایسی بات نہ کہی جائے جو اسے ناپسند گزرتی ہو، اگرچہ کہنے والے نے سچ کہا ہو۔ اگر وہ بات جو غیر موجودی میں کہی گئی، دروغ اور جھوٹ ہے تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمانے کے بعد فرمایا، مفہوم: ’’کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے، پھر فرمایا کہ تمھیں یہ ناگوار ہوگا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھاؤ۔ مطلب یہ کہ طبعی طور پر تم یہ گوارا نہیں کرو گے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھاؤ۔ بالکل اسی طرح تم شرعاً گوارا نہ کرو کہ میں کسی کی غیبت کروں، کیوں کہ غیبت کی عقوبت اس سے زیادہ ہے کہ تم اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاؤ۔‘‘ (ابن کثیر) غیبت کتنی ہلاکت خیز ہے، اس بات سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نماز روزہ جیسے بلند پایہ عظمت والی عبادت کی نورانیت کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ غیبت صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ آنکھ اور اشاروں سے بھی غیبت ممکن ہے اور یہ بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ لنگڑے کی طرح چلنا، ٹیڑھی آنکھیں بنانا کہ اس سے کسی کا حال واضح ہو جائے یہ سب غیبت ہے۔ اگر نام لے کر نہ کہے اور کہے: ایک آدمی نے ایسا کیا تو یہ غیبت نہیں ہے مگر جب حاضرین کو پتا چل جائے کہ اس سے مراد کون سا آدمی ہے تو پھر اس طرح بیان کرنا بھی حرام ہوگا کیوں کہ قائل کا مقصد سمجھانا ہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو۔ (کیمیائے سعادت) امام غزالیؒ کی مذکورہ بالا وضاحت سے پتا چلتا ہے کہ کسی کی نقل کرنا بھی غیبت ہے۔ مثلاً کوئی لنگڑا ہے تو اس کے لنگڑے پن کی نقل کرنا۔ کسی کی آواز درست نہیں ہے تو اس کی نقل کرنا وغیرہ، یہ سب بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والے عمل ہیں۔ کچھ تعلیمی اداروں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کی نقلیں کر کے خوب ہنسی مذاق کی محفلیں گرم کرتے ہیں۔ ایسے ناعقل لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ غیبت ہے جو حرام ہے۔ خاص کر دینی مدرسے کے لڑکوں کو چوں کہ مدرسہ دارالعلوم ہوتا ہے۔ جب علم والے ہی بے عملی کریں گے تو بے علموں کا کیا حال ہو گا۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو غیبت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ غیبت نہیں ہے۔ مثلاً جب ان کے سامنے کسی کا ذکر ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ الحمدﷲ! اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے محفوظ رکھا تاکہ لوگوں کو پتا چل جائے کہ وہ آدمی ایسا کرتا ہے۔ یا جیسے کہتے ہیں کہ فلاں تو بہت نیک تھا لیکن وہ بھی اہل دنیا میں پھنس گیا اور وہ بھی ہماری طرح لوگوں میں مبتلا ہوگیا۔ اسی قسم کی اور باتیں کہتے ہیں اور کبھی اپنی برائی ایسے کرتے ہیں جس سے دوسرے کی برائیاں واضح ہو جائیں اور جب کبھی ان کے رُو بہ رُو کسی کی غیبت کی جاتی ہے تو اس بات پر اظہار تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتنی انوکھی بات ہے، تاکہ غیبت کرنے والا ہوشیار ہو اور دوسرے بھی جانیں اور جو غافل تھے وہ بھی اس بات کو سن لیں، کہتے ہیں بھائی! ہمیں اس کے بارے میں سن کر بہت رنج پہنچا ہے۔ اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ غرض یہ ہے کہ دوسرے لوگ آگاہ ہو جائیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے جب کسی کا ذکر درمیان میں آتا ہے تو کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق دے تاکہ لوگ سمجھ جائیں کہ فلاں آدمی نے گناہ کیا ہے یہ سب باتیں غیبت میں شامل ہیں۔ اور جب ایسی فضول باتوں سے مطلب نکل آتا ہے تو اس میں حماقت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ جو خود کو نیک اور دوسرے سے بے زار کیا جا رہا ہے، اس میں دو گناہ ہوئے اور بے عقل اسے جان بیٹھے کہ ہم نے غیبت نہیں کی۔ (کیمیائے سعادت) جیسے کسی کا عیب دوسرے سے کہنا صحیح نہیں ہے ایسے ہی اپنے دل سے کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ دل سے غیبت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں بُرا خیال کرو بغیر اس کے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کوئی برا کام دیکھا ہو یا کانوں سے سنا ہو یا اس فعل بد پر آپ کو یقین کامل ہو۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کا مال، ان کا خون اور ان سے بدگمانی ان تینوں باتوں کو حرام کیا ہے۔ ان تینوں باتوں میں بھی کسی کے دل میں آئے اور اس پر یقین نہ ہو اور نہ دو عادل شاہدوں نے اس پر گواہی دی ہو تو سمجھ لو، یہ بات دل میں شیطان نے ڈالی ہے۔‘‘ (کیمیائے سعادت) غیبت کرنا تو گناہ کبیرہ ہے ہی غیبت سننا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ لہٰذا جب کوئی غیبت کر رہا ہو تو اس کو روک دیجیے! اور ثواب بھی کمائیے! کہ فرمان مصطفیٰ ﷺ کا مفہوم ہے: ’’جو اپنے (مسلمان) بھائیوں کی پیٹھ پیچھے اس کی عزت کا تحفظ کرے تو اﷲ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ اسے جہنّم سے آزاد کر دے۔‘‘ (مسند امام احمد) اگر روک نہیں سکتے تو ممکن ہو تو وہاں سے اُٹھ جائیے۔ اُٹھ سکتے ہیں نہ ہی بات بدل سکتے ہیں، تو کم از کم دل میں بُرا جانیے یا اس بات کی طرف بے توجہی برتیے مثلاً بے زاری کے ساتھ ادھر اُدھر دیکھیے ، بار بار گھڑی دیکھیے وغیرہ۔ معزز قارئین! کانپ جائیے اور ہیبت خدا وندی سے مرعوب ہو کر غیب سے توبہ کر ہی لیجیے کہ اس کی وجہ سے گناہوں کا بوجھ تو سر پر آتا ہی ہے اور ساتھ ہی نیکیاں بھی مٹ جاتی ہیں۔ روایت کا مفہوم ہے: ’’انسان قیامت کے روز اپنا نامۂ اعمال نیکیوں سے خالی دیکھ کر گھبرا کر کہے گا: میں نے جو فلاں فلاں نیکیاں کی تھیں، وہ کہاں گئیں ؟ کہا جائے گا: تُونے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹادی گئی ہیں ۔‘‘ (ترغیب) لہٰذا اب یہ علم ہونا ضروری ہے کہ غیبت کرنے والا دل کی بیماری میں مبتلا ہے ا س کا علاج کرنا چاہیے۔ اس کا علاج دو طرح سے ہے ۔ علمی علاج : وہ یہ ہے کہ غیبت کی مذمت میں جو احادیث آئی ہیں ان پر غور و خوض کرے اور اچھی طرح سمجھے کہ غیبت کی وجہ سے اس کی نیکیاں کسی کے نامۂ اعمال میں چلی جائیں گی اور وہ خود خالی ہاتھ رہ جائے گا۔ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا! انسان کی نیکیوں کو غیبت ایسے نابود کر دیتی ہے جیسے آگ سوکھی لکڑی کو۔ عملی علاج: یہ ہے کہ اپنی غیبت سے خوف کرے۔ اگر خود میں کچھ نقص پاتا ہے تو سمجھے کہ وہ آدمی اپنے عیب میں اس کی طرح ہی معذور ہے اور اگر اپنی ذات میں کوئی کمی اور نقص نہیں پاتا تو اچھی طرح سمجھ لے کہ اپنے عیب سے غافل رہنا بھی ایک عظیم عیب ہے۔ غیبت کرنا حرام ہے جیسے جھوٹ کہنا لیکن ضرورت اور حاجت کے پیش نظر یہ عذروں کی وجہ سے مباح ہے۔ بادشاہ یا قاضی کے سامنے فریاد کرنا، اس وقت غیبت صحیح ہے یا کسی ایسے آدمی کے رو بہ رو کہنا جس سے مدد کا طالب ہو۔ لیکن ایسے آدمی کے سامنے جس سے اعانت کی اُمید نہ ہو۔ مثلاً ظالم سے ظلم کو بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ کسی جگہ لڑائی یا فتنہ دیکھ کر کسی ایسے آدمی سے کہنا جو احتساب کی طاقت اور فساد پھیلانے والے کو باز رکھ سکتا ہو۔ کسی کے شر سے بچنا چاہتا ہو جیسے کوئی چور اور اس پر کوئی آدمی بھروسا کرنا چاہتا ہے تو اس حالت میں عیب ظاہر کر دینا صحیح اور روا ہے۔ اور اسے چھپانا مسلمان کے ساتھ دھوکا کرنے کے مترادف ہے۔ ایک عذر یہ ہے کہ وہ اس آدمی کے متعلق ہے جو اپنا فسق ظاہر کرے، جیسے ہیجڑا، شراب نوشی ایسے لوگ جو فسق کو معیوب نہیں جانتے ان کا ذکر کرنا روا ہے۔ (ریاض الصالحین) معزز قارئین! غیبت اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے تو ہر مسلمان کو بہ ہر حال بچنا ضروری ہے۔ اگر بہ تقضائے بشریت غیبت کر چکے تو فوراً اس کا کفارہ ادا دینا چاہیے۔ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ توبہ کرے اور نادم و شرمندہ ہوتا کہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے ۔ ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’جس نے کسی کے مال یا عزت کے معاملہ میں اس پر ظلم کیا، تو وہ اس سے معافی مانگے، قبل اس کے کہ وہ دن آئے کہ جس دن نہ درہم رہے گا نہ دینار، مگر اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی۔ اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اس کی گردن پر ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ (کیمیائے سعادت) پیارے آقا ﷺ فرماتے ہیں، مفہوم : ’’میں شب معراج ایسی قوم سے گزرا جو اپنے چہروں اور سینوں کو تانبے کے ناخنوں سے چھیل رہے تھے ۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ لوگوں کی غیبت کرتے اور ان کی عزت خراب کرتے تھے۔‘‘ (ابو داؤد شریف) حضرت سیدنا قتادہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذاب قبر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تہائی عذاب غیبت سے۔ ایک تہائی چغلی سے اور ایک تہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے ) کی وجہ سے ہوتا ہے ۔‘‘ (احیاء العلوم) اﷲ تعالیٰ سارے مسلمانوں کو غیبت کی تباہ کاریوں سے محفوظ و مامون رکھے اور تمام مسلمانوں کو نیکیوں سے محبت کرنے اور گناہوں سے نفرت کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل