Thursday, February 12, 2026
 

شادی بیاہ کی نمائشی تقریبات

 



چند دن قبل ایک شادی کے سلسلے میں حیدرآباد جانا ہوا، ولیمے کی تقریب تھی، ویسے تو سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا عام طور پر شادی بیاہ کی تقریبات میں ہوتا ہے لیکن ایک چیز مجھے بہت اچھی لگی، وہ یہ کہ مہمانوں کو کھانا ان کی نشستوں پر پیش کیا گیا۔ بیرے تمام میزوں پرکھانا رکھ رہے تھے۔ نہ کھانا شروع ہوتے ہی بھگدڑ مچی، نہ لوگوں کے ہجوم نے کھانے کی میزوں کو گھیرا۔ پورے وقت ویٹر تمام میزوں کو دیکھتے رہے، جہاں کوئی چیزکم ہوتی وہ لا کر ڈش میں ڈال دیتے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ بہت اطمینان سے کھا رہے تھے اور پلیٹوں میں کھانا بچا ہوا نہیں تھا۔ میزبانوں نے بتایا کہ حیدرآباد کا یہی چلن ہے، یہاں کھانا مہمانوں کو ان کی نشستوں پر ہی دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک تو مہمان آسودہ رہتے ہیں، دوسرے کھانا ضایع نہیں ہوتا۔ میرے اپنے بیٹے کی شادی پر ولیمے والے دن کھانا مہمانوں کو ان کی نشستوں پر ہی پیش کیا گیا تھا اور جو کھانا بچ گیا تھا وہ سیلانی والوں کو بلا کر انھیں دے دیا گیا تھا۔ ہمارے بچپن اور لڑکپن میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانا نشستوں پر ہی سروکیا جاتا تھا، البتہ تب اس طرح ہوتا تھا کہ لمبی لمبی میزوں کے دونوں اطراف کرسیاں رکھی ہوتی تھیں، خواتین کی نشستیں الگ ہوتی تھیں اور مرد حضرات کی الگ۔ کھانا میزوں پر سرو کیا جاتا تھا، بیرے دیکھتے رہتے تھے کہ کس میز پر کس چیز کی کمی ہے۔ میرے دونوں بڑے بھائیوں کا ولیمہ گھر پر ہی تھا، کچھ میزیں لان میں لگی تھیں اور بقیہ گھرکی کشادہ چھت پر۔ میرے والد نے لمبی میزوں کے بجائے چھوٹی میزیں لگوائی تھیں، جو چھ افراد کے لیے تھیں۔ نہ کھانا پلیٹوں میں بچتا تھا نہ لوگ کھانے کے لیے پاگل ہوتے تھے۔ پھر مغرب سے درآمد شدہ تہذیب نے ’’بوفے‘‘ متعارف کرا دیا، جس میں تمام کھانا میزوں پہ رکھ دیا جاتا ہے اور مہمان کھڑے ہوکرکھانا نکالتے اور کھاتے ہیں۔ خواتین کے لیے ’’بوفے‘‘ ایک عذاب ہے۔ وہ اپنے بھاری بھرکم کپڑے اور جیولری سنبھالیں، بچوں کو کھانا دیں یا خود کھائیں۔ سب سے غلط جو طریقہ ہے وہ یہ کہ مرد اور عورتیں ایک ہی ٹیبل پر سے کھانا لیتے ہیں، ایک عجیب اور بدتہذیبی کا منظر ہوتا ہے جب مرد حضرات خواتین کو کھانا نکالنے کا موقع نہیں دیتے۔ کچھ خواتین مردوں کو پیچھے دھکیل کر ڈشوں تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن ایسی خواتین کی تعداد کم ہوتی ہے۔ ’’بوفے‘‘ کا سب سے خراب طریقہ یہ ہے کہ لوگ کھانے پر یوں ٹوٹ پڑتے ہیں کہ جیسے اگر انھوں نے دھینگا مشتی نہیں کی تو شاید آج انھیں کھانا نہیں ملے گا اور اس خوف کی وجہ سے پلیٹوں میں چوٹی دار بریانی بھر لی جاتی ہے۔ بوٹیوں کے پہاڑ الگ ہوتے ہیں، قورمہ یا کڑاہی سے بھی دوسری پلیٹ بھر لی جاتی ہے، تیسری پلیٹ میں بروسٹ بھرا نظر آتا ہے، ہر بار پلیٹیں بھر کر اپنی نشستوں پر رکھی جاتی ہیں، ساتھ ہی میٹھے کی تمام اقسام بھر کر رکھ لی جاتی ہیں، شیرمال اورکلچوں کا ڈھیر الگ۔ ہر ایک کو یہ خوف کہ کہیں کھانا ختم نہ ہو جائے۔ پھرکھانا کھا کر اگرکافی یا گرین ٹی ہے تو دونوں کا ذائقہ لینا ضروری ہے، آئس کریم اور قلفی دونوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ جب پیٹ بھر جاتا ہے تو کولڈ ڈرنک کی کئی کئی بوتلیں معدے میں اتر جاتی ہیں۔ ہر طرف میزوں پہ جھوٹی پلیٹیں نظر آتی ہیں، جن میں جھوٹا کھانا بچا ہوتا ہے اور یہ کھانا ضایع ہوتا ہے اور سب کا سب ڈسٹ بن میں جاتا ہے، مہنگائی کے اس دور میں سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے۔ انھیں اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا ہوتا ہے اور زمانے کے ساتھ چلنا بھی پڑتا ہے۔ اپنا یہ بھرم رکھتے رکھتے بعض اوقات وہ قرض دار بھی ہو جاتے ہیں، شادی بیاہ کی تقریبات میں نمود و نمائش اور دکھاوا حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ حکمران، سیاستدان، پیر، صحافی اور دانشور یہ سب عام آدمی کے لیے رجحان ساز ہیں، یہ عوام کے لیے مثال ہوتے ہیں۔ شادی اب صرف مذہبی فریضہ نہیں رہی، سادگی ختم ہو چکی ہے۔ ہر شخص اپنی حیثیت سے بڑھ کر تقریبات پر خرچ کرتا جاتا ہے جب کہ حکمرانوں کے بیٹے بیٹیوں کی شادیاں ملک بھر میں موضوع سخن بن جاتی ہیں جن میں دولت کی حد سے زیادہ نمائش ہوتی ہے، ایسی شادیاں عوام میں احساس محرومی پیدا کرتی ہیں لیکن انھیں کیا پرواہ۔ مایوں، مہندی، بارات اور ولیمے پرکروڑوں خرچ کیے جاتے ہیں، لاکھوں کی جیولری ہوتی ہے، دلہا اور دلہن کی مائیں کتنا سونا پہنے تھیں، وہ کیسی لگ رہی تھیں،کون سی خاتون اپنی عمر سے بیس سال کم لگ رہی تھیں، تحفوں کے انبار لگ جاتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ تحفے کیوں دیے جاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت حکمران طبقہ، وزیروں، سیاستدانوں سے اپنے کام نکلوائے جا سکیں۔ کس کی پہلی شادی ہے،کس کی دوسری؟ سب کا آنکھوں دیکھا حال صحافی اور سوشل میڈیا دونوں تفصیل سے بیان کرتے ہیں، تحفوں کی مالیت لاکھوں اورکروڑوں میں ہوتی ہے، تحفہ وصول کرنے والا بھی جانتا ہے کہ دینے والا کبھی نہ کبھی اس کی قیمت ضرور وصول کرے گا۔ شادی کبھی ایک گھریلو اور سماجی تقریب ہوا کرتی تھی، جس میں قریبی عزیز اور دوست احباب شریک ہوتے تھے، لیکن آج کی شادیاں، دولت کا اشتہار نظر آتی ہیں۔ پہلے صرف دو کھانوں اور ایک میٹھے سے مہمانوں کی تواضح کی جاتی تھی، لیکن آج کل آٹھ دس کھانے،کئی میٹھے،کشمیری چائے اورکافی ضروری سمجھے جاتے ہیں، چاہے اس کی وجہ سے والدین قرض دار ہی کیوں نہ ہو جائیں، اس نمائشی کلچر کی وجہ سے لوگ نہ صرف قرض دار ہوجاتے ہیں بلکہ ذہنی پریشانی کا سبب بھی بنتے ہیں، شادی ایک روایتی تقریب ہے، یہ خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن دکھاوے اور نمود و نمائش کی وجہ سے یہ ایک عذاب بن گیا ہے، شادی کے موقع پر مہمانوں کو جو ’’بوفے‘‘ کے عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے وہ مہمانوں کے لیے بھی ایک عذاب ہوتا ہے۔ اس موقع پر خواتین زیادہ پریشان ہوتی ہیں، جن کے ساتھ بچے ہوتے ہیں، وہ دگنی پریشان ہو جاتی ہیں۔ بچوں کو اسی لیے وہ پلیٹیں بھر کر کھانا نکال دیتی ہیں تاکہ بار بار انھیں اٹھنا نہ پڑے۔ اسی لیے پلیٹوں میں وافر کھانا بچ کر ضایع ہو جاتا ہے۔ اگر ’’بوفے‘‘ کرنا ہی ہے تو مردوں کی ٹیبل الگ اور خواتین کی الگ ہونی چاہیے، بصورت دیگر بڑی ہڑبونگ مچتی ہے۔ مرد حضرات خواتین کو کھانا نہیں نکالنے دیتے، اس طرح کافی کھانا ضایع ہو جاتا ہے۔ اچھے خاصے تھری پیس سوٹ پہننے والوں کو میں نے نہایت برے طریقے سے کھانا نکالتے دیکھا ہے۔ کبھی حکومت کی طرف سے صرف ایک ڈش کی پابندی تھی، یہ بھی ہوا کہ صرف پچاس مہمان بلانے کی بھی پابندی تھی، لیکن آہستہ آہستہ ساری پابندیاں ختم ہو گئیں، کھانے اور مہمانوں پر پابندی کی وجہ سے غریب طبقہ بہت خوش تھا۔ مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، خاص کر متوسط طبقہ دہرے عذاب سے گزر رہا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دعوت میں محمود صاحب اور ان کی فیملی سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ محمود صاحب اب تک بیٹی کی شادی پہ لیا ہوا قرضہ چکا رہے ہیں، محمود صاحب انیس گریڈ کے افسر تھے اور ایک کالج میں پڑھاتے تھے۔ بیگم گھریلو خاتون ہیں، چار بچے ہیں، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا، جو بہنوں میں سب سے چھوٹا ہے۔ بیگم پڑھی لکھی خاتون تھیں، شادی سے پہلے وہ ایک بڑے اسکول میں پڑھاتی تھیں، محمود صاحب کو بیگم کی جاب پر کوئی اعتراض نہیں تھا، لیکن بیگم کی والدہ نے شادی سے پہلے ملازمت چھڑوا دی۔ محمود صاحب نے کچھ نہ کہا، لیکن جب ذمے داریاں بڑھیں تو انھیں احساس ہوا کہ انھوں نے ملازمت چھوڑ کر غیر دانش مندی کا ثبوت دیا ہے، گھر میں ساس اور نند موجود تھیں جو بچوں کو سنبھال سکتی تھیں لیکن محمود صاحب کی ساس نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی بہو جاب کرے۔ عجیب منطق تھی ان کی جب کہ ان کی بیٹی سات سال سے ملازمت کر رہی تھی اور محمود صاحب کی بیگم نے بھی یہ نہ سوچا کہ جب وہ میکے میں رہتے ہوئے جاب کر سکتی ہیں تو شادی کے بعد شوہر کا بوجھ کیوں کم نہ کر سکیں۔ محمود صاحب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، قرض کی تلوار گردن پہ لٹک رہی ہے، وہ ایک پرائیویٹ کالج میں بھی پڑھاتے ہیں، بیٹا ابھی چھوٹا ہے اور تیسری بیٹی گریجویشن کر رہی ہے۔ سادگی تبھی سماج میں جگہ بنا سکتی ہے جب حکمران طبقہ اپنی زندگیوں میں اپنی تقریبات میں سادگی لائیں، ورنہ سادگی پر کی جانے والی تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا۔ خدارا عوام کے جذبات اور احساسات سے نہ کھیلیں، اپنی جیولری اور تحفوں کی نمائش نہ کیجیے۔ وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ وہ پورے پاکستان میں صرف ون ڈش کی پابندی لگا دیں، صرف یہی نہیں بلکہ مہمانوں کی تعداد پر بھی پابندی لگا دیجیے۔ افسوس کہ گزشتہ برسوں کی ون ڈش کی پابندی حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے ختم ہو گئی۔ ہمارا ملک غریب ہے لیکن ہمارے حکمران، تاجر اور سیاستدان اس قدر دولت مند ہیں کہ ان کی تقریبات کی کوریج دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ اس کوریج سے عام آدمی نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل