Loading
جمہوری نظام حکومت میں شفاف، منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا ادارہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ مہذب اور اصول پسند جمہوری معاشروں میں آئین و قانون کی بالادستی کا احترام کیا جاتا ہے۔ وہاں الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمے داری کے مطابق وقت مقررہ پر منصفانہ اور شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بناتا ہے۔
کوئی دوسرا سرکاری و حکومتی ادارہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سب ہی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرتی ہیں۔ ہارنے والے امیدوارکشادہ دلی کے ساتھ جیتنے والوں کو مبارک باد دیتے ہیں۔ بعینہ شکست خوردہ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتی ہیں۔
امریکا جیسے ملک میں لوکل باڈیز کے انتخابات میں بھی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جاتا ہے جس کی تازہ مثال بھارتی نژاد مسلمان امریکی سیاستدان ظہران ممدانی کی نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں شان دار کامیابی ہے حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مقدور بھر کوشش کی کہ ظہران ممدانی میئر کے انتخاب میں کسی صورت کامیابی حاصل نہ کر سکیں، لیکن انتخابی نظام کی مضبوطی، شفافیت اور آئین و قانون کی بالادستی کی وجہ سے امریکی صدرکی مداخلت کاری کو شکست اور ممدانی کو فتح نصیب ہوئی۔ بعدازاں صدر ٹرمپ نے ان سے ملاقات بھی کی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ریاستی ادارے و سیاسی جماعتیں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدارکی پاس داری کے دعوے تو ضرورکرتی ہیں اور تمام آئینی و حکومتی اداروں کے سربراہان بھی اپنے بیانات میں آئین و قانون کی حکمرانی کے بلند و بانگ دعوے تو ضرورکرتے ہیں، لیکن عملاً ایسا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے آج تک ملک میں ہونے والے تمام عام انتخابات میں شفافیت و غیر جانب داری کو یقینی بنانے میں اپنی آئینی ذمے داری کو احسن طریقے سے پورا نہیں کیا، لہٰذا ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات نے الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنائے رکھا۔ 1977کے انتخابات میں دھاندلی کا ایسا شور تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے احتجاج کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دے دی جس کے نتیجے میں نہ صرف ذوالفقار علی بھٹوکا اقتدار ختم ہوگیا، بلکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالت عظمیٰ سے سزائے موت سنا دی گئی۔ جنرل ضیا نے تین ماہ (90دن) میں عام انتخابات کروا کے اقتدار منتخب نمایندوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا لیکن 11 سال یعنی اپنی مدت تک وہ اقتدار کے مالک بنے رہے۔ انتخابی دھاندلی کے نتیجے میں قوم کو 11 سال تک مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔ منتخب وزیر اعظم کو پھانسی ہوئی اور جمہوریت کی ٹرین پٹری سے اتر گئی۔
پاکستان میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات بھی دھاندلی کے الزامات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 93 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کر لیا لیکن حکومت بنانے میں ناکام رہے۔ پی پی پی اور (ن) لیگ نے مل کر مخلوط حکومت بنا لی۔
8 فروری کو پی ٹی آئی نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہڑتال ناکام رہی، کہیں پہیہ جام نہیں ہوا۔ جب کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان میں ہڑتال خاصی کامیاب رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ لاہورکو ہڑتال سے محفوظ رکھنے کے لیے عین ہڑتال والے دن سے دو روز پیشتر تین روزہ بسنت کا میلہ سجایا۔’’ بسنتی سیاست ‘‘ کے باوجود لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں کہیں کہیں ہڑتال کے اثرات پائے گئے جسے پی ٹی آئی اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے جب کہ حکومت اسے ناکامی سے تعبیر کر رہی ہے۔ ملک کو انتخابی دھاندلی کے منفی نتائج سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور آزاد ادارہ بنایا جائے، مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ ’’ بسنتی سیاست‘‘ جیسے میلوں ٹھیلوں سے نہ نظام تبدیل ہوسکتا ہے نہ ہی جمہوریت مستحکم ہوسکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل