Saturday, February 14, 2026
 

ویلنٹائن ڈے: مغربی تہوار یا ہماری ثقافت کا چیلنج؟

 



دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی محبت کے اظہار کا عالمی دن، ویلنٹائن ڈے، منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ کچھ افراد اسے مغربی ثقافت سے جوڑتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے محبت اور مثبت جذبات کے اظہار کا ایک موقع قرار دے کر اس کی حمایت کررہے ہیں۔ دوسری جانب میمز بھی کسی سے پیچھے نہیں؛ انہوں نے طنز و مزاح سے بھرپور میمز کے ذریعے سوشل میڈیا پر خاصی ہلچل مچا رکھی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پھول فروشوں نے اپنی دکانیں دلہن کی طرح سجا رکھی ہیں، جبکہ مختلف شہروں کی شاہراہوں پر بھی عارضی اسٹالز کی بھرمار دکھائی دے رہی ہے۔ گلاب کے پھول، کارڈز اور تحائف کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان تمام مناظر کے بیچ ایک سوال ابھرتا ہے: محبت کے اس عالمی دن کا آغاز کب، کیسے اور کیوں ہوا؟ محققین کی آراء میں اختلاف رائے نظر آتا ہے۔ کچھ محققین کے مطابق اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کو سینٹ ’ویلنٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات برقرار رکھی گئیں۔ اس دن کو ہر اس فرد کے لیے اہم سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پُرامید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلنٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے، اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ کچھ محققین اسے ویلنٹائن نامی ایک پادری سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس لیے ایک دن ویلنٹائن صاحب نے اپنی محبوب کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ خواب میں اسے بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے جس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کرگئے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے۔ انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن کو ’شہیدِ محبت‘ کے درجے پر فائز کرتے ہوئے ان کی یاد میں دن منانا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ مغرب سے وابستہ اس روایت نے ہمارے معاشرے میں بھی جگہ بنالی اور ایک مخصوص طبقہ اسے جوش و خروش سے منانے لگا۔ تاہم اس کے ردِعمل میں بعض مذہبی و سماجی حلقوں نے اسے مقامی اقدار اور ثقافتی روایات کے منافی قرار دیتے ہوئے 14 فروری کو یومِ حیا کے طور پر منانے کا اعلان کیا، جس کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس موقع پر متعلقہ جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر آگاہی اسٹالز قائم کیے جاتے ہیں، جہاں حیا، مشرقی روایات اور خاندانی اقدار کے فروغ سے متعلق پمفلٹس اور لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مہمات چلائی جاتی ہیں، جن میں نوجوانوں کو اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت برقرار رکھنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ ان تمام معلومات اور تاریخ کی روشنی میں مارکس گاروی کا قول بالکل موزوں محسوس ہوتا ہے: ’’جو قوم اپنی تاریخ، اصل اور ثقافت سے ناواقف ہو، وہ بغیر جڑ کے درخت کی مانند ہے۔‘‘ یہ قول ہمیں ایک گہری سوچ کی دعوت دیتا ہے کہ اپنی شناخت، روایات اور ثقافت کی قدر کریں۔ ویلنٹائن ڈے جیسے مغربی تہوار چاہے دنیا بھر میں مقبول ہوں، مگر یہ ہمارے سماجی اور ثقافتی پس منظر سے جڑے نہیں ہیں۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے کہ آیا ہمیں اپنی روایات بھلا کر مغرب کی ثقافت اپنانا چاہیے، جواب خود واضح ہو جاتا ہے، ایک قوم کی طاقت اس کی جڑوں میں ہے۔ ہم اپنی ثقافت، اقدار اور تاریخ کو یاد رکھ کر مغربی تہوار یا رجحانات سے لطف اٹھا سکتے ہیں، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ہماری شناخت اور اخلاقی بنیادیں کہیں متاثر نہ ہوں۔ یوں ہم دنیا کے ساتھ ہم آہنگ بھی رہ سکتے ہیں اور اپنی پہچان کو بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب ہر فرد اور قوم کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہماری ثقافت کی حفاظت اور جدید دنیا کے رجحانات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل