Loading
راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے 15 فروری کے بڑے مقابلے سے قبل پاکستان کے اسپن اٹیک کو ٹیم کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار مقابلہ یکطرفہ نہیں بلکہ انتہائی سنسنی خیز ہوگا۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس ابرار احمد اور عثمان طارق کی شکل میں بہترین اسپنرز موجود ہیں جبکہ شاداب خان کی واپسی ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔ شعیب اختر کے مطابق کولمبو کی کنڈیشنز میں پاکستانی اسپنرز بھارتی بیٹنگ لائن کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوں گے اور یہی وہ شعبہ ہے جو میچ کا فیصلہ کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی میچ کی تصدیق ہوئی، ٹکٹیں مہنگی ہو گئیں، ہوٹل بھر گئے اور فلائٹس کے کرائے دگنے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کھیلنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے تو کرکٹ کا معیار، مارکیٹنگ اور ٹی آر پی ایک الگ ہی سطح پر پہنچ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی دنیا کے 65 فیصد ریونیو کا دارومدار پاک بھارت مقابلوں پر ہے، اسی لیے دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے۔
شعیب اختر نے مزید کہا کہ کھیل کو جوڑنے کا ذریعہ بننا چاہیے، توڑنے کا نہیں۔ انہوں نے بنگلا دیش کے حوالے سے ہونے والی بحث پر بھی بات کی اور کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت نیوٹرل وینیو پر کھیل سکتے ہیں تو باقی ٹیموں کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ تاہم اب کرکٹ شروع ہو چکی ہے اور یہ سب سے اچھی بات ہے کیونکہ پاکستان کی شرکت کے بغیر یہ ورلڈ کپ بے معنی ہوتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل