Loading
کمسن بچیوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے مقدمات میں ملوث بدنام امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کی موت سے متعلق ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی بلکہ ممکنہ طور پر ان کا گلا دبایا گیا تھا۔ یہ دعویٰ ان کی موت کے حوالے سے جاری بحث کو ایک بار پھر تازہ کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ اس وقت سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کے معاملے پر عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم مستعفی ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایپسٹین سے متعلق جاری دستاویزات میں ان کا نام بھی سامنے آیا تھا۔
حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین کیس سے متعلق نئی فائلز جاری کی ہیں جن میں کمسن بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کی تفصیلات شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے بعد اس کیس سے جڑے مختلف افراد پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل