Loading
جنیوا/پیرس: اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں فرانچیسکا البانیز کے خلاف مبینہ جھوٹے بیان کے معاملے پر یورپ میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
متعدد عالمی میڈیا اداروں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو “انسانیت کا مشترکہ دشمن” قرار نہیں دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق France 24 اور Reuters نے ویڈیو اور ٹرانسکرپٹ کی جانچ کے بعد واضح کیا کہ دوحہ میں ایک فورم کے دوران البانیز کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ اصل میں وہ عالمی مالیاتی نظام اور اسلحہ کی صنعت کا حوالہ دے رہی تھیں۔
اس کے باوجود فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے بعض وزرا نے تاحال اپنے بیانات واپس نہیں لیے۔
ایمنیسٹی کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارد نے مطالبہ کیا ہے کہ یورپی وزرا نہ صرف اپنے الزامات واپس لیں بلکہ سرِعام معافی بھی مانگیں۔ انہوں نے اسے “سیاسی بزدلی” قرار دیا۔
ادھراو آئی سی نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ من گھڑت الزامات اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
فرانس میں اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ فرانسیسی وکلا کی ایک تنظیم نے وزیر خارجہ یان نیول بیروٹ کے خلاف مبینہ غلط معلومات پھیلانے پر پیرس کے پراسیکیوٹر کے پاس شکایت درج کرا دی ہے۔
دوسری جانب 100 سے زائد عالمی شخصیات نے بھی البانیز کی حمایت کی ہے، جن میں اداکار مارک رافیلو اور یاویئر بارڈیم شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی حقوق کی حمایت پر اقوامِ متحدہ کی نمائندہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فرانچیسکا البانیز نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور سچ سامنے آنے کے باوجود اصلاح نہیں کی جا رہی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل