Monday, February 16, 2026
 

سانحہ گل پلازہ: بروقت امداد نہ ملنے سے نعشوں کے ڈھیر لگ گئے

 



شہرِ قائد ایک بار پھر آگ، چیخوں، دھوئیں اور لاشوں کے سائے میں ڈوب گیا۔ گل پلازہ میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک کمرشل عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ریاستی نااہلی، ناقص شہری منصوبہ بندی، کمزور نگرانی اور انسانی جانوں سے مجرمانہ غفلت کی ایسی لرزہ خیز مثال بن کر سامنے آیا جس نے پورے کراچی کو سوگوار کر دیا۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 72 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے ، باقی لا پتہ افراد کے اہلخانہ سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئیں لیکن وہ نہیں آئے۔ جاں بحق 72 افراد میں سے 69 افراد کی باقیات اہلخانہ کے سپرد کی جاچکی ہیں۔ 3 جاں بحق افراد کی باقیات تاحال ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔ سانحہ گل پلازہ گزشتہ ماہ 17 جنوری بروز ہفتہ، رات سوا دس بجے کے قریب پیش آیا۔ اس وقت گل پلازہ میں خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ میزانائن فلور پر قائم مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ رپورٹ کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ میں ماچس یا لائٹر کے استعمال سے آگ بھڑکی، جس نے چند ہی لمحوں میں پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حیرت انگیز اور تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ انتظامیہ ایک دکان میں لگنے والی آگ پر بروقت قابو نہ پا سکی۔ عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 12 منٹ کے اندر پوری عمارت شعلوں کی زد میں آ گئی۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اور کالا دھواں پورے علاقے پر چھا گیا۔ چند لمحوں میں گل پلازہ ایک دہکتے ہوئے انگارے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ آگ کے وقت پلازہ میں دکانداروں، ملازمین اور خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ دھواں بھرنے کے باعث سانس لینا محال ہو گیا۔ بجلی کی بندش اور عمارت سے باہر نکلنے والے متعدد راستوں کی بندش نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ حدِ نگاہ ختم ہو گئی، لوگ اندھیرے اور دھوئیں میں ایک دوسرے سے بچھڑتے چلے گئے۔ کئی افراد مارکیٹ کی بھول بھلیوں میں راستہ بھٹک کر پھنس گئے اور بے بسی کے عالم میں ایسی موت کا شکار ہو گئے جس کا تصور بھی شاید انہوں نے کبھی نہ کیا ہو۔ سانحہ کے بعد گل پلازہ کی مینجمنٹ کمیٹی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، آگ سے بچاؤ اور لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آخر کیا انتظامات کیے گئے تھے؟ انکشاف ہوا کہ گل پلازہ میں نہ فائر الارم نصب تھا اور نہ ہی اسپرنکلر سسٹم موجود تھا۔ حادثے کے فوراً بعد شہر کا سیاسی ماحول بھی شدید گرم ہو گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پیپلز پارٹی اور میئر کراچی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فوری استعفوں کا مطالبہ کر دیا۔ سانحے کے بعد ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے دفتر میں لاپتہ افراد کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا۔ یہاں جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ انسان کے دل کو چیر دینے والے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔ جلنے والی دکانوں کے مالکان کے لیے ریلیف پیکیج اور گل پلازہ کی نئی عمارت کی تعمیر کا بھی اعلان کیا گیا۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ سانحے کے دوران گل پلازہ کی عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ملبے تلے دبنے سے کے ایم سی کا فائر فائٹر فرقان علی فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو گیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے گل پلازہ کی باقی ماندہ عمارت کو بھی مخدوش قرار دے کر گرانے کا حکم جاری کر دیا، جبکہ زمین بوس حصے کا ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تنقید فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں پر کی گئی۔ شہریوں اور متاثرین کا الزام ہے کہ آگ لگنے کے باوجود فائر بریگیڈ بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔ جو گاڑیاں پہنچیں وہ ناکافی آلات اور پانی کی شدید کمی کا شکار تھیں۔ واٹر ٹینکرز سے فراہم کیا جانے والا پانی بھی تاخیر سے پہنچا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی ایک گھنٹے میں مؤثر ریسکیو آپریشن کیا جاتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ عمارت میں پھنسے افراد مدد کے لیے پکارتے رہے، مگر نظام کی بے حسی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ سانحے کی چشم دید گواہ بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں یاسمین اور بیٹی عائشہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیس سال کی جمع پونجی صرف بیس منٹ میں جلتے ہوئے دیکھ لی۔ ان کے مطابق بیسمنٹ میں اعلان کیا گیا کہ اپنی دکان بند کر کے فوراً باہر نکلیں، اوپر آگ لگ چکی ہے۔ جب وہ اپنی والدہ اور ملازمین کے ساتھ باہر نکلیں تو ہر طرف دھواں اور شعلے تھے، ہر سمت بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ان کی بیسمنٹ میں گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نبی بخش پولیس نے واقعے کا مقدمہ ایس ایچ او نبی بخش کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل بالسبب سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا اور مزید تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دی گئی۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر دی گئی۔ پہلا فائر ٹینڈر 11 منٹ بعد 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو 10 بج کر 30 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیم 10 بج کر 53 منٹ پر پہنچی۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ آگ گراؤنڈ فلور پر موجود بچوں کی فلاور شاپ سے لگی۔ سانحے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے لواحقین کا کہنا ہے کہ حسب روایت چند افسران معطل ہوں گے، ایک اور کمیٹی بنا دی جائے گی اور پھر فائلیں بند ہو جائیں گی، مگر جو لوگ دھوئیں اور آگ کے درمیان دم توڑ گئے، ان کے اہلخانہ کا کرب کون محسوس کرے گا؟۔ سانحہ گل پلازہ آج کراچی کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب بن چکا ہے، لیکن سوال آج بھی وہی ہے کہ کیا ہم نے کچھ سیکھا؟ یا یہ سانحہ بھی ماضی کے حادثات کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل