Monday, February 16, 2026
 

انڈین فلم انڈسٹری کیسے بدل رہی ہے

 



پدم بھوشن ، گولڈن گلوب ، گرامی ایوارڈز اور آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان سے کون واقف نہیں۔انھوں نے ہندی اور غیر ہندی فلموں میں شاندار موسیقی دی ، کامیاب ترین بین الاقوامی کنسرٹس کیے ، آزادی کی گولڈن جوبلی پر وندے ماترم کی ایسی نئی دھن تخلیق کی جو اب بھارت کا غیر رسمی قومی ترانہ ہے۔رحمان نے چند ہفتے پہلے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گذشتہ آٹھ برس سے انھیں بالی وڈ میں رفتہ رفتہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب زیادہ تر فیصلے غیر تخلیقی لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور ممکن ہے کہ کام ملنے میں کمی کا سبب مذہبی تعصب بھی ہو۔ اس انٹرویو کے بعد فرقہ پرست ہندو تنظیمیں اے آر رحمان کے پیچھے پڑ گئیں اور وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی ) نے ان سے ’’ بھارت کی توہین ‘‘ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔سوشل میڈیا رحمان مخالف پوسٹوں سے بھر گیا۔ رحمان کو ایک وضاحتی پوسٹ لگانا پڑ گئی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بالی وڈ میں ایک عرصے تک پاکستانیوں کو بطور ولن دکھایا جاتا رہا۔ چند برس سے بھارتی مسلمانوں نے ولنز کی جگہ لے لی ہے۔وہ زمانے لد گئے جب بالی وڈ میں ہر شخص ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے کام اور ہنر کے سبب پہچانا جاتا تھا۔آج آپ اپنے فلمی کیریر میں کیسا بھی دیش بھگت کردار نبھا لیں۔کوئی سا بھی ملی نغمہ کمپوز کر لیں۔ آپ کا تعلق اکثریتی ہجوم سے نہیں تو آپ کے ایک ایک جملے اور حرکت کو خوردبین تلے رکھا جائے گا اور جہاں بھی قدم ذرا لڑکھڑائے ، طعنوں اور طنز کی بارش ہونے لگے گی اور کوئی بھی آپ کو چھتری پیش نہیں کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جب دلیپ کمار صاحب نے انیس سو بانوے کے ممبئی فسادات کے بعد بے گھر مسلمانوں کے لیے سنیل دت اور اے کے ہنگل کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کیا تو شیو سینا کے لونڈے دلیپ صاحب کے گھر کے باہر روزانہ جمع ہو کر ان کے خلاف نعرے لگاتے اور پاکستان جانے کا مشورہ دیتے۔ معروف لکھاری اور ’’ فسطائیت کی جانب بھارت کا سفر ‘‘ نامی کتاب کے مصنف دیبشش رائے چوہدری کے بقول آج دھرنے یا جلوس کی ضرورت ہی نہیں۔آن لائن ٹرولنگ کا ہتھیار رفتہ رفتہ سماجی سطح پر نفرت کو نارمل بنانے کے لیے کافی ہے اور پھر یہی بلند آہنگ نفرتی آوازیں ریاستی بیانیہ بن جاتی ہیں۔ بیانئیے کی اس جنگ میں فلم بہت موثر ہتھیار ہے ۔ جیسے سرد جنگ کے دور میں انیس سو پچاس سے اسی کی دہائی تک امریکی اسٹیبلشمنٹ نے نام نہاد آزاد دنیا کے حق میں امریکی بیانئے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہالی وڈ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ہالی وڈ میں ’’کیمونسٹ خیالات رکھنے والے گمراہ تخلیق کاروں ‘‘ کی صفائی کی گئی یا بقول شخصے شدید دباؤ اور بائیکاٹ کے زریعے ان کا سافٹ وئر اپ ڈیٹ کیا گیا۔جو نہیں جھکے بلیک لسٹ ہو گئے اور کام ملنا بند ہو گیا۔ بالی وڈ کا شمار دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز میں ہوتا ہے۔اس پر نظریاتی طور پر قابو پانا بیانئے کی آدھی جنگ جیتنے کے برابر ہے۔دو ہزار بائیس میں بالی وڈ نے کشمیر فائل اور اگلے برس کیرالہ اسٹوری ریلیز کی۔ان فلموں میں ثابت کیا گیا کہ بھارتی مسلمان دھشت گرد اور ملک کے لیے سنگین اندرونی خطرہ ہیں۔بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی سرکاروں نے ان فلموں پر تفریحی ٹیکس معاف کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ فلم بینوں کو سینما ہال تک لایا جا سکے۔ پھر بھی دونوں فلموں کو اوسط کمرشل کامیابی ہی مل سکی۔ اے آر رحمان نے فلم چھاوا کا بھی میوزک کمپوز کیا۔اس فلم میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کو ایک ہندو دشمن ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا گیا۔مگر رحمان صاحب نے انٹرویو میں قبول کیا کہ ایسی فلمیں سماجی ہم آہنگی کے لیے نیک شگون نہیں۔ سرکردہ فلمی نقاد اور اسکرین رائٹر راجہ سین کہتے ہیں کہ ان سے ایک بڑے فلم ساز نے اپنی آنے والی فلم کے ہیرو کا مسلمان نام بدل کے ہندو نام رکھنے کا مطالبہ کیا حالانکہ یہ تبدیلی کہانی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ انیس سو اسی کی دہائی تک کسی بھی ہندی فلم میں زیادہ تر مسلمان کرداروں کو بھائی ، دوست ، شاعر اور گلوکار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اب جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں مسلمان کرداروں کو سخت گیر ، رجعت پسند ، متشدد یا دھشت گرد دکھایا جاتا ہے۔شاہ رخ ، سلمان ، سیف اور عامر جیسے چوٹی کے اداکاروں کی مقبولیت سے لگتا ہے گویا بالی وڈ آج بھی اپنے پیشہ ورانہ رویوں میں روشن خیال اور سیکولر ہے۔مگر یہ ظاہری تصویر ہے۔ جب عامر خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آج ملک کی جو فضا ہے اس میں میری بیوی کو ڈر لگتا ہے یا جب عامر کی دو ہزار چودہ میں ریلیز ہونے والی فلم پی کے میں مذہبی سوالات اٹھائے گئے یا لال سنگھ چڈھا میں عدم رواداری پر بات کی گئی تو سوشل میڈیا پر بائیکاٹ عامر خان ٹرینڈ شروع ہوگیا ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ ان کی اہلیہ ہندو کیوں ہیں۔کیا یہ لو جہاد تو نہیں۔سوال کرنے والے بھول گئے کہ عامر خان کا تعلق گاندھی اور نہرو کے ساتھی مولانا ابوالکلام آزاد کے خاندان سے ہے۔ دو ہزار پندرہ میں شاہ رخ خان کا بھی گھیراؤ ہوا کہ انھوں نے ایک انٹرویو میں یہ کیوں کہا کہ آس پاس کی فضا میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے۔آج کل بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جب شاہ رخ خان کی پریمیر لیگ ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے ایک بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان سے کنٹریکٹ سائن کیا تو ’’ شاہ رخ حان غدار ہے ’’ کی ٹرولنگ شروع ہو گئی۔چنانچہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کا کنٹریکٹ معطل ہو گیا۔ جب سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بہانے کسی بھی ہدائت کار یا اداکار کے ڈیجیٹل یا فزیکل گھیراؤ کا فیشن شروع ہوا ہے۔بالی وڈ میں تخلیقی آزادی کی روح سہم گئی ہے۔زیادہ تر لوگ پھونک پھونک کر اور سامنے والے کے تیور دیکھ کر بات کرتے ہیں۔ کئی فلموں کے لیے اداکاروں کا انتخاب اس بنیاد پر ہوتا رہا کہ ان کی شکل کسی گروہ کو بری تو نہیں لگے گی۔ایسی کہانی جس میں اقلیت کو ہدف بنایا گیا ہو ایک محفوظ منافع بخش سرمایہ کاری بنتی جا رہی ہے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی کاروبار یا صنعت کا حتمی مقاضد منافع کمانا ہے۔اکثریتی بیانیہ بھلے سرمایہ کار کو کتنا بھی ناگوار گذرے مگر اپنی آزاد سوچ اور اصولوں کو تو پیسے کے لیے بلی پر چڑھانا ہی پڑتا ہے۔گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل