Loading
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں واقعی آنسو تھے، پریماداسا اسٹیڈیم میں میچ کے بعد گرین شرٹ پہنے اس لڑکے کو تسلی دینے کیلیے جب میں آگے بڑھنے لگا تو اس سے پہلے ہی شاید اس کے دوست یا کزن جو بھی تھے وہ آگئے ،او تم رو رہے ہو ہا ہا کب بڑے ہو گے، ہار گئے تو ہار گئے چھوڑو اب رونا دھونا۔
اس نے غصے سے انھیں گھورا اور کہا کہ میں رو نہیں رہا آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا، چلو اب ہوٹل چلتے ہیں، یہ کہہ کر وہ تو چل دیے لیکن میں جانتا تھا کہ اتوار کی شب ملک سے محبت کرنے والے بہت سے پاکستانیوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
کوئی مذاق اڑانے سے بچنے کیلیے آنکھ میں کچھ جانے کا بہانہ کر رہا ہو گا اور کسی نے آنکھوں سے باہر آنسو نہیں آنے دیے ہوں گے کہ لوگ کیا کہیں گے، خواتین تو رو لیتی ہیں مردوں کو یہ لبرٹی حاصل نہیں، کرکٹ کے شائقین کو سب برداشت ہے لیکن انڈیا سے ہار نہیں۔
مجھے سری لنکا میں ہی پاکستان سے کال آئی کہ ہمیں بڑی امیدیں تھیں لیکن افسوس آپ بھی پی سی بی کو کچھ نہیں کہتے، ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو ,,گلوری فائی,, کر رہے ہوتے ہیں، صرف کھلاڑیوں پر ہی زورچلتا ہے۔
میں نے کہا شاید آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن کیوں اس کی وجہ بھی جانتے ہیں،ویسے ہم بہت عجیب ہیں اتنے عجیب کہ خیالی پلاؤ بھی بناتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ خواب میں بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے، جو ٹیم ایشیا کپ میں انڈیا سے مسلسل تین میچز ہار گئی، جسے نیدرلینڈز کو زیر کرنے کیلیے ناکوں چنے چبانے پڑے۔
ہمیں لگا انڈین سائیڈ خود فتح پلیٹ میں رکھ کر اسے پیش کر دے گی،میچ سے قبل کیا ہوا؟ ایک سابق اسٹار نے کہا اس بارمجھے ٹیم بہت مضبوط لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے، دوسرے نے کہا کہ سری لنکن کنڈیشنز سے ہم آہنگی حاصل ہو چکی، انڈین ٹیم تو ابھی وہاں پہنچی ہے انھیں پچ کا کچھ پتا نہیں اس لیے ہم جیت جائیں گے۔
تیسرے نے کہا کہ ہمارے اسپنرز کمال کے ہیں ہم جیت جائیں گے، چوتھے نے کہا ایسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، پانچویں نے کہا ویسا ہے لہذا ہم جیت جائیں گے، ہم سے ٹی وی پر اینکر نے پوچھا تھا سلیم صاحب کیا لگتا ہے،میں نے جواب دیا ارے جناب مجھے تو ٹیم بہت اچھی لگ رہی ہے ہم جیت جائیں گے۔.
کسی اور میڈیا والے سے ٹی وی پر پوچھا تو اس نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم جیت جائیں گے، البتہ دل میں ہم جانتے تھے کہ بھائی کیسے جیت جائیں گے، ہمارے پاس اسپنرز ہیں تو انڈیا کے پاس بھی تو ہیں، ہمارے پیسرز آؤٹ آف فارم ہیں مگر انڈیا کے تو فارم میں ہیں ہماری بیٹنگ کچھ نہیں کر رہی مگر انڈینز تو ہر حریف کو ہراتے چلے آ رہے ہیں، ایسے میں کیسے جیت جائیں گے،
کیا فہیم اشرف کے چھکوں سے جیتیں گے یا صائم ایوب کے نو لک شاٹ سے جیتیں ہیں، ہمارے پاس دنیا کی سب سے عجیب و غریب ٹیم ہے،2 پیسرز میں سے ایک فہیم کی بولنگ پر ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں اور انھیں گیند ہی نہیں تھمائی جاتی،ہاں وہ کبھی کبھار چھکے لگا دیتے ہیں۔
دوسرے پیسر شاہین کی فارم روٹھ گئی ہے اور انھیں اب آرام کرنا چاہیے، صائم سے جارحانہ بیٹنگ کی توقع ہوتی ہے اور وہ وکٹیں لے رہے ہیں، بابر اعظم کا دور لگتا ہے اب ختم ہو گیا اور کتنے سال ان کو بڑے اسکور کی آس میں کھلایا جاتا رہے گا، کم از کم ٹی ٹوئنٹی سے تو وہ ریٹائر ہی ہو جائیں تو مناسب رہے گا۔
صاحبزادہ فرحان سے بڑی توقعات تھیں وہ بھی کچھ نہیں کر سکے، سلمان نے کپتان بننے کے بعد اتھارٹی منوانا شروع کر دی اور سابقہ کپتانوں کی طرح من پسند بیٹنگ پوزیشن پر قابض ہو گئے۔
چلیں ٹھیک ہے مگر اسکور بھی تو کریں ناں،عثمان خان کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا کہ وہ اس لیے تھوڑے رنز بنا گیا کیونکہ انڈیا نے اس پر ورک ہی نہیں کیا، جو پلیئر ہر میچ میں صفر پر آؤٹ ہو رہا ہو اس سے بھلا کوئی حریف کیوں ڈرے گا،انھیں ہیرو بننے کا اچھا موقع ملا تھا جو گنوا دیا۔
ہمارے آل راؤنڈرز بھی ایسے ہیں کہ وہ خود اپنے نام کے سامنے یہ لکھا دیکھ کر شرما جاتے ہوں گے کہ او اچھا ایسا ہے، انھیں پتا ہی نہیں کہ بیٹنگ کرنی ہے یا بولنگ، بعض تو دونوں ہی شعبوں میں ناکام ہیں۔
آل راؤنڈر عمران خان،وسیم اکرم، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، اظہر محمود تھے، جنھوں نے ٹیم کو میچز بھی جتوائے، کولمبو میں پاکستانی ٹیم کو سری لنکنز کی بھی حمایت ملی۔
ایک صاحب کو گرین شرٹ میں دیکھ کر جب میں نے اردو میں کچھ کہا تو جواب ملا میں بنگلہ دیشی ہوں انگریزی میں بات کریں اردو زیادہ نہیں آتی، ان کے ہاتھ میں جتنا بڑا پاکستانی پرچم تھا شاید ہم یوم آزادی پر اپنے گھر میں بھی نہیں لگاتے ہوں گے،
کوئی پاکستانی لندن، دبئی تو کوئی امریکا سے میچ دیکھنے آیا تھا، البتہ اس سپورٹ کا کوئی فائدہ نہ ہوا کھلاڑی اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ ان سے بیٹنگ ہی نہ ہو سکی، وہ تو شکر کریں کہ ٹیم کی سنچری بن گئی،کیا صاحبزادہ میں دم نہیں،
کیا صائم باصلاحیت نہیں، کیا بابر ختم ہو چکا، کیا سلمان کچھ نہیں کر سکتا؟ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن انڈیا سے کھیلتے ہوئے نجانے سب کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول جاتے ہیں، ماہر نفسیات کھلاڑیوں کیلیے تو کچھ نہیں کر سکے شاید وطن واپس جا کر خود انھیں ہی سیشنز لینے پڑیں۔
اب نوبت یہ آگئی ہے کہ امریکا بھی پوائنٹس ٹیبل پر ہم سے آگے ہے، ہاں ہاں مجھے یاد ہے امریکا نے ہمیں گزشتہ ورلڈکپ میں ہرا دیا تھا، اب نمیبیا سے میچ جیتنے کی دعائیں کرنا پڑیں گی،
سوشل میڈیا دیکھنا میری مجبوری ہے لیکن انڈینز نے وہ طوفان بدتمیزی مچایا ہوا ہے کہ کیا بتاؤں،ظاہر ہے ہم ہارے جو جا رہے ہیں تو انھیں موقع مل گیا ہے، ہماری فوج نے انھیں جنگ میں ہرا دیا، ان کے کئی رافیل گرا دیے، دنیا بھر میں ہمارے نام کا ڈنکا بج گیا لیکن کرکٹ میں ہم کچھ نہیں کر پاتے۔
کاش یہاں بھی کوئی ایسا تگڑا کپتان مل جائے جو کسی انسان سے نہ ڈرے اور ہر حریف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے، کاش کرکٹ میں بھی بہادر ائیرفورس کے پائلٹس جیسے جی دار کھلاڑی مل جائیں جو وکٹیں اڑائیں اور رنز بنائیں،
جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم کچھ نہیں کر سکتے، آپریشن کے نام پر پلیئر اے کو نکالیں گے، بی کو لے آئیں گے، پھر اگلی ہار پر اے واپس آ جائے گا اور بی باہر ہوگا، شائقین کی بھی یہی سوچ ہے،وہ بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں،انھیں جو باہر ہو وہ اچھا لگتا ہے پھر واپس آ جائے تو دوبارہ باہر نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کون سے بریڈ مین، میلکم مارشل یا شین وارن ہمارے پاس موجود ہیں جنھیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا،میں اس وقت فلائٹ میں بیٹھ کر یہ لکھ رہا ہوں, باقی باتیں انشااللہ اگلے کالم میں ہوتی ہیں۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل