Loading
ڈھاکا: بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے شاندار انتخابی کامیابی کے بعد بنگلا دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ ان کی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔
روایت کے برعکس حلف برداری کی تقریب صدارتی محل کے بجائے قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔
صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام، سفارت کاروں اور چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
60 سالہ طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور مقتول صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے ہیں۔ وہ 17 سال جلاوطنی کے بعد گزشتہ برس وطن واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی کو بی این پی کی انتخابی مہم میں اہم موڑ قرار دیا گیا۔
2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کر رہے تھے۔ اسی عبوری دور کے بعد حالیہ انتخابات منعقد ہوئے۔
انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے بھی 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار حصہ لیا اور 68 نشستیں حاصل کیں۔ عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنے پہلے خطاب میں طارق رحمان نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے سامنے سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنا بڑے چیلنجز ہوں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل