Saturday, February 21, 2026
 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ

 



ہائی کورٹ نے اقدام قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم فواد عرف مانی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے ۔ ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔ عدالت نے دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔ تحریری عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ شبانہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3 گولیاں لگیں۔ دورانِ تفتیش ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے ۔ چند گھنٹوں کی تاخیر سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 324 پی پی سی میں جسم کے نازک یا غیر نازک حصے کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد عرف مانی کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے ۔ لہٰذا وہ ضمانت کا حقدار نہیں۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ۔ ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل