Friday, February 20, 2026
 

رمضان المبارک یا منافع خوروں کا سیزن

 



رمضان المبارک کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’روزہ میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا۔‘‘ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو مومن کے دل کو تسلی دیتا ہے، مگر افسوس کہ اسی معاشرے میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو اس رحمت کے مہینے کو ’لوٹ مار‘ کا سیزن سمجھتا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی جہاں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرے، وہیں پاکستان میں ایک غریب آدمی کےلیے سب سے بڑی فکر ’سحر و افطار‘ کا دسترخوان سجانا بن گئی ہے۔ اللہ رب العزت نے تو اس مہینے کو صبرو تقویٰ کا ذریعہ بنایا تھا، مگر ہمارے معاشرے کے منافع خوروں نے اسے ’اندھیر نگری‘ میں تبدیل کردیا ہے۔ آج مارکیٹ کی صورتحال یہ ہے کہ جو اشیاء رمضان سے چند روز قبل تک عام آدمی کی پہنچ میں تھیں، وہ اب خواب بنتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر کھجور، جو سنتِ نبویؐ اور افطار کا لازمی جزو ہے، اس کی قیمتیں سن کر ہوش اڑ جاتے ہیں۔ جو کھجور عام دنوں میں 400 روپے کلو دستیاب تھی، اسے مصنوعی قلت پیدا کرکے 700 سے 800 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ کوالٹی کی کھجوریں تو اب عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہوچکی ہیں۔ یہی حال پھلوں کا ہے؛ وہ کیلا جو 100 روپے درجن مل رہا تھا، اب 200 روپے سے تجاوز کرچکا ہے اور سیب کی قیمتیں تو راتوں رات ڈبل ہوگئی ہیں۔ وہ خربوزہ چاند نظر آنے سے پہلے دو سو روپے کلو مل رہا تھا، چاند کا اعلان ہوتے ساتھ ہی ساڑھے تین سو روپے کلو پر پہنچ گئے۔ ہر وہ چیز جس کا استعمال رمضان میں بڑھ جاتا ہے، اسے منافع خوری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر سال بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ ’’پرائس کنٹرول فورس‘‘ متحرک ہے اور گراں فروشوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فورسز صرف بازاروں کے چکر لگانے اور چند چھوٹے دکانداروں پر جرمانے کرکے اپنی کارکردگی دکھانے تک محدود ہیں۔ بڑے ذخیرہ اندوزوں اور ہول سیلرز پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں۔ انتظامیہ کی یہ ’پیر فورس‘ صرف سرکاری فائلوں میں تو سرگرم نظر آتی ہے، لیکن جب ایک عام شہری مارکیٹ جاتا ہے تو اسے وہی پرانی لوٹ مار اور من مانی قیمتیں ملتی ہیں۔ مجسٹریٹس کے چھاپے صرف دکھاوے کے ثابت ہورہے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں قیمتوں کا کوئی مستقل استحکام نظر نہیں آتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزہ دار کا اجر وہ خود دے گا، مگر دوسری طرف ہمارے تاجر بھائی اس اجر کے بجائے دنیاوی مال جمع کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ عمل کسی صورت بھی اللہ کے ساتھ جنگ سے کم نہیں، کیونکہ جب آپ اللہ کے عیال (مخلوق) کو تنگ کرتے ہیں اور ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں، تو آپ براہِ راست ربِ کائنات کی ناراضی مول لے رہے ہوتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک طرف روزہ دار بھوکا پیاسا رہ کر خدا کو راضی کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک کلمہ گو مسلمان اسے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر رہا ہے؟ افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مذہبی تہواروں پر اشیاء سستی کردی جاتی ہیں تاکہ انسانیت کی خدمت ہوسکے، لیکن ہمارے ہاں ’اسلامی جمہوریہ‘ میں رمضان کو کمانے کا سیزن سمجھا جاتا ہے۔ پھل، سبزیاں، چینی اور آٹا غریب کی دسترس سے باہر کر کے ہم کیسی برکتوں کی امید رکھتے ہیں؟ انتظامیہ کی ناکامی اور تاجروں کی بے حسی نے مل کر عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف فوٹو سیشن اور نمائشی دوروں کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ پرائس کنٹرول فورس کو بااختیار اور ایماندار بنانا ہوگا تاکہ وہ سیاسی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال سکیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو، ایسی اشیاء کا بائیکاٹ کریں جن کی قیمتیں بلاوجہ بڑھائی گئی ہیں۔ جب تک ہم بطور معاشرہ اپنی اخلاقی حالت درست نہیں کریں گے اور خوفِ خدا کو اپنے کاروبار کا حصہ نہیں بنائیں گے، تب تک یہ رمضان اسی طرح مہنگائی کے بوجھ تلے دبے رہیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہِ مقدس کی حقیقی روح کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل