Friday, February 20, 2026
 

ایپسٹین فائلز کے سنگین الزامات، پرنس اینڈریو  پولیس کی کئی گھنٹوں تفتیش کے بعد رہا

 



برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس کے چھوٹے بھائی پرنس اینڈیو کو سرکاری عہدے میں بدعنوانی کے شبہے میں گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 66 سالہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو اس الزام پر حراست میں لیا گیا تھا کہ انہوں نے بطور تجارتی نمائندہ اپنے دورِ ملازمت کے دوران خفیہ سرکاری دستاویزات مرحوم امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو بھیجے تھے۔ انہیں جمعرات کو کئی گھنٹوں تک تفتیش کے بعد “مزید تحقیقات کے تحت رہائی” دے دی گئی۔ تھیمز ویلی پولیس نے اس ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں بلکہ یہ کہ تحقیقات کے لیے معقول شبہ موجود تھا۔ بادشاہ چارلس نے ایک بیان میں کہا کہ قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور شاہی خاندان حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ دوسری جانب پرنس اینڈریو ماضی میں ایپسٹین سے تعلقات کے باعث اپنے تمام سرکاری شاہی فرائض سے دستبردار ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایپسٹین سے متعلق لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی گئی تھیں، جن میں اینڈریو کا نام بھی سامنے آیا۔ تاہم موجودہ پولیس تحقیقات کا تعلق کسی جنسی بدسلوکی کے مقدمے سے نہیں بلکہ سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات سے ہے۔ اگر ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد کی گئی اور جرم ثابت ہوا تو سرکاری عہدے میں بدعنوانی پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ معاملہ اس وقت مزید تفتیش کے مرحلے میں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل