Loading
مادری زبان کسی بھی قوم کی ثقافت، وقار اور شناخت کی علامت ہوتی ہے۔ یہ صرف بات کرنے یا خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک وسیع پل ہے جو ہمیں اپنی تاریخ، تہذیب، معاشرت اور سوچ کے گہرے پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے۔
اس حوالے سے عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا کہ ’’اگر آپ کسی سے اُس زبان میں بات کریں جو وہ سمجھتا ہے تو بات دماغ تک پہنچتی ہے، لیکن اگر آپ اُس سے اُس کی مادری زبان میں بات کریں تو بات اُس کے دل میں اتر جاتی ہے۔‘‘
منڈیلا کے یہ الفاظ مادری زبان کی اہمیت اور اُس کے جذباتی اثر کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تعلق، احساس اور شناخت کا لازمی جزو ہے۔
آج دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف زبان کے استعمال کو فروغ دینا نہیں بلکہ ثقافتی شناخت، تاریخی ورثہ اور قومی شعور کی حفاظت اور ترویج بھی ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر زبان ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، روایت اور تہذیبی میراث کی عکاس ہوتی ہے، اور اس کے بغیر کوئی بھی قوم اپنی اصل پہچان کھو دیتی ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دن کو منانے کا آغاز کب، کیسے اور کیوں ہوا؟
تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ مادری زبان کے عالمی دن کی تاریخ برصغیر کی ایک اہم لسانی تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد جب ریاستی سطح پر اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا گیا، تو اُس وقت مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلادیش) کی اکثریت بنگالی بولتی تھی۔
مارچ 1948 میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکا کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ اردو ہی پاکستان کی واحد قومی زبان ہوگی۔ اس اعلان کے بعد لسانی تحریک نے باقاعدہ شکل اختیار کرلی اور بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا۔
یہ تحریک اپنے عروج پر 21 فروری 1952 کو پہنچی، جب ڈھاکا یونیورسٹی کے طلبا نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود احتجاج کیا۔ حکومت کی جانب سے اجتماعات پر پابندی تھی، مگر طلبا نے اسے مسترد کرتے ہوئے جلوس نکالا۔ پولیس کی فائرنگ سے کئی نوجوان شہید ہوئے، جن کی قربانی نے بنگالی زبان کی تحریک کو ایک تاریخی موڑ دے دیا۔
21 فروری 1952 کے خونیں واقعے کے بعد بنگالی عوام نے شہداء کی قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھا۔ ان نوجوان طلبا کی یاد میں یادگار شہداء بنائی گئی، اور اگلے ہی سال، یعنی 1953 میں پہلی مرتبہ 21 فروری کو ’’شہید دیبوش‘‘ (یومِ شہداء) کے طور پر منایا گیا۔ یہ دن اُن نوجوانوں کی یاد میں وقف کیا گیا جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر بنگالی زبان کو اس کا جائز حق دلایا۔
وقت کے ساتھ یہ دن محض ایک احتجاجی یادگار نہیں رہا بلکہ قومی شناخت، لسانی وقار اور ثقافتی شعور کی علامت بن گیا۔ بنگلادیش کے قیام کے بعد 21 فروری کو سرکاری سطح پر قومی تعطیل قرار دیا گیا، اور ڈھاکا میں تعمیر ہونے والا شہید مینار ان شہداء کی دائمی یادگار ٹھہرا۔ ہر سال یہاں عوام کی بڑی تعداد جمع ہو کر پھولوں کی چادریں چڑھاتی ہے اور عہد کی تجدید کرتی ہے کہ مادری زبان کی حفاظت قومی وقار کا حصہ ہے۔
یہ مقامی یادگار آگے چل کر عالمی شعور کا حصہ بنی اور بالآخر 17 نومبر 1999 کو یونیسکو نے 21 فروری کو عالمی یومِ مادری زبان قرار دیا۔ پہلی مرتبہ سال 2000 میں دنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا گیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس دن کی توثیق کی تاکہ دنیا میں لسانی تنوع، ثقافتی ورثے اور مادری زبانوں کے تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔
آج یہ دن دنیا کی تمام زبانوں کے احترام اور بقا کی عالمی علامت بن چکا ہے۔
ان تمام تاریخی حقائق اور واقعات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادری زبان وہ آئینہ ہے جس میں ایک قوم اپنی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شعور کی جھلک دیکھتی ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں، جہاں اردو کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، اسے وہ عملی اہمیت اور ترجیح نہیں مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔
2023 میں ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان میں تقریباً 36.98 فیصد آبادی پنجابی، 18.15 فیصد پشتو، 14.31 فیصد سندھی، 12 فیصد سرائیکی، 9.25 فیصد اردو، 3.02 فیصد بلوچی، 2.32 فیصد ہندکو، 1.16 فیصد براہوی اور 0.11 فیصد کشمیری زبان بولتی ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اردو اکثریتی مادری زبان نہیں بلکہ ایک رابطے کی زبان کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
مسئلہ اس وقت سنگین ہوتا ہے جب قومی سطح پر اردو کی تدریس، تحریر اور خالص ادبی روایت کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان نسل، جو مستقبل کی معمار ہے، بڑی حد تک انگریزی یا مخلوط زبان کے استعمال کی طرف مائل ہے۔ نتیجتاً نہ صرف خالص اردو تحریر کم ہوتی جا رہی ہے بلکہ درست تلفظ اور زبان کی ساخت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ رجحان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی قومی اور مادری زبانوں کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں، کیونکہ زبان کا زوال دراصل ثقافتی شناخت کے بتدریج کمزور ہونے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل