Loading
' فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟'
یہ ارشد خرم تھے۔ 'تکبیر'کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ' تکبیر' کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:
' حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔'
ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔'
' فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔'
ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:
' بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔'
ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔'
بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔
1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔
سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔
ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔
ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
سید سلمان گیلانی
سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل