Loading
لڑکیوں کی تعلیم معاشرتی ترقی، خاندان کی خوشحالی اور نسل نو کی بہتر تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔
تعلیم لڑکیوں کو خودمختار بناتی ہے، انہیں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذا لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’لڑکیوں کی تعلیم اور ٹیچرز ٹریننگ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خیالات کا اظہارکیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
ڈاکٹر نشاط ریاض
(چیف ایگزیکٹیو ملالہ فنڈ پاکستان)
آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں ملک کی 65 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ملک میں نوجوانوں خصوصاََ 30 برس سے کم عمر افراد کی شرح زیادہ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ اور بڑی طاقت ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا ٹیلنٹ اور جذبہ کسی بھی ایٹمی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے۔ قوموں کو بڑی قوت بننے میں صدیاں لگی ہیں۔ اس سفر میں انہوں نے جس طاقت کا استعمال کیا وہ تعلیم ہے۔ تعلیم میں سب سے اہم لرننگ ہے کہ نوجوانوں کو کیا سکھایا جائے، کس طرھ سکھایا جائے اوراس کیلئے ان سے متعلقہ اداروں کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ اداروں سے مراد صرف سکول، کالج یا یونیورسٹیز ہی نہیں بلکہ لرننگ کے وہ تمام مقامات ہیں جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کی جائے اور اس طرح ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پاکستان کو آگے لے کر جاسکے۔ پنجاب کی بات کریں تو یہ صوبہ بہت ترقی کر رہا ہے۔ میں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور جب بھی لاہور آتی ہوں تو ہر مرتبہ سرپرائز ملتا ہے۔ اس مرتبہ کا منظر یہ ہے کہ کھلی اور صاف ستھری سڑکیں ہیں، پھل اور سبزیوں کی ریڑھیاں ترتیب سے لگی ہوئی ہیں۔ مجھے سروسز ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ ہسپتال صاف، ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود اور عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات دی جا رہی ہیں۔ میں اس حوالے سے پنجاب کے عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ ہمارے ’ڈی این اے‘ میں ٹیلنٹ ہے۔ ہماری بچیاں قابل ہیں لیکن یہاں سکولوں کی تعداد کم ہے۔ ورلڈ بینک کے معیار کے مطابق ایسے علاقے جہاں مسافت مشکل ہے، وہاں ہر 10 کلومیٹر پر ایک سکول ہونا چاہیے۔پنجاب کی تقسیم ود طرح سے ہے، ایک وسطی اور دوسرا جنوبی پنجاب، دونوں کے مسائل، وسائل اور سہولیات الگ الگ ہیں۔ سکول دور ہونے کی وجہ سے پرائمری سے سیکنڈری سطح تک بچیوں کی ڈراپ آؤٹ شرح زیادہ ہے۔ والدین کو یہ تشویش ہوتی ہے کہ راستہ محفوظ ہے یا نہیں، سکول میں خواتین اساتذہ ہیں یا نہیں، وہاں الگ واش رومز ہیں یا نہیں،اس کے علاوہ یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ و دیگر اخراجات ان کی پہنچ میں ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اگر سکول میں خاتون ٹیچر ہے تو کیا اس کے لیے ماحول سازگار ہے؟ اسے سہولیات میسر ہیں؟ اسے تحفظ حاصل ہے؟ اس کی ٹریننگ ہوئی ہے یا نہیں؟ میں دوسرے صوبوں میں ایسے ٹیچرز سے بھی ملی ہوں جن کی 20،20 سال سے ٹریننگ نہیں ہوئی۔ پنجاب ان صوبوں میں شامل نہیں ہے، یہاں ٹیچرز ٹریننگ ہو بھی رہی ہے اور بہتری کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ہمارے سسٹم میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ صرف عمارت بنا دینا کافی نہیں ہے، اس کی روح تعلیمی نصاب، اساتذہ اور بچے ہیں۔ ہمیں ایجوکیشن ایکوسسٹم کی گروتھ پر کام کرنا ہے،ا س حوالے سے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ تعلیمی نصاب ایجوکیشن سسٹم کا اہم حصہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ نصاب کن کیلئے بنایا جا رہا ہے؟ جس دور میں ہم نے پڑھا اور جو بچے آج پڑھ رہے ہیں، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا میں چائلڈ سائیکالوجی پر بہت کام ہوتا ہے، جن بچوں کیلئے نصاب بنایا جاتا ہے، ان کی نفسیات کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، ان کی دلچسپی کیا ہے، ان کو کیا خوف ہے؟ اساتذہ، والدین ، بچے اور معاشرہ اہم سٹیک ہولڈرز ہیں ، تعلیمی نصاب بناتے وقت ان سے لازمی مشاورت کرنی چاہیے۔ عصر حاضر کا طالب علم استاد سے زیادہ ایڈوانس ہے، کیا اس حوالے سے ہمارا نصاب ’اپ گریڈ‘ہو رہا ہے؟ کیا ٹیچرز ٹریننگ ہو رہی ہے؟ کیا امتحانی نظام کو تبدیل کیا گیا؟ کیا اس سسٹم کو چلانے کیلئے گورننس اور جانچ پڑتال کا نظام بنایا گیا؟ افسوس ہے کہ یہ سب نہیں ہوا۔ پاکستان میں بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن اس کا ہوتا کیا ہے کسی کوعلم نہیں۔ میرے نزدیک اس حوالے سے ایک سسٹم بننا چاہیے اور صرف وہ ڈیٹا اکٹھا کرنا چاہیے جس کی ضرورت ہو، یہ کریڈیبل ہو اور پھر اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں۔ہر بچے کی تعلیم ، صحت اور ذہنی نشونما حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی بجٹ صرف 4 فیصد ہے، اسے بڑھانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ایجوکیشن ایمرجنسی لگانے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، حکومت کی کوشش کے باوجود معاملات ٹھیک نہیں ہو رہے۔ محکمہ تعلیم اکیلے کچھ نہیں کر سکتا، ادارے نے ایکسی لنس سکول تو بنا دیے لیکن اس کیلئے بڑے فنڈز اور پلاننگ چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اداروں کے درمیان آپس میں روابط ہیں یا نہیں؟میرے نزدیک اداروں کے درمیان کووارڈینیشن کا بہترین میکنزم بنانا ہوگا۔ سکول صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی کیلئے بھی اہم ہوتے ہیں، وہاں بچوں کی لرننگ ہوتی ہے، سکولوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔ بیرون ممالک میں سکولوں میں سائیکالوجسٹ باقاعدہ کام کرتے ہیں، ہمارے سرکاری سکولوں میں اس کا تصور نہیں ہے، تعلیمی نصاب بناتے وقت تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر نازیہ آصف
(ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لاہور)
لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جب بات ہوتی ہے تو چند بنیادی مسائل بتائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کا رویہ ہے وہ لڑکیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے۔ غربت بھی ایک مسئلہ ہے جس کا بہانہ بنا کر والدین بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ میں جب فیروزوالہ، شیخوپورہ میں تعینات تھی تو ایک د ن اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر آیا، اس نے مجھے پانچ برس عمر کی ایک بچی کی تصویر دکھائی جس کا ہاتھ اس کی ماں نے کوئلہ رکھ کر جلا دیا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ یہ آٹھ بہن بھائی ہیں، ماں کو طلاق ہوگئی، وہ میکے میں آگئی ہے، اس کے والد اپنے بچوں کے ساتھ اب اپنی بیٹی کے بچوں کو بھی پال رہے ہیں ۔ اس مزدور والد پر اب 15بچوں کی پرورش کا بوجھ پڑ گیا ہے۔ اس چھوٹی بچی نے چینی کھائی جس پر غربت اور حالات کی ستائی ماں نے اسے سزا دی ۔ ہم نے اس دن یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں ایک بہترین ماحول فراہم کیا جائے تاکہ بچے سکول آئیں، اگر وہ نہیں بھی پڑھتے تو کم از کم یہاں محفوظ تو رہیں گے۔ ہمارے پاس شدید غریب گھرانوں کے بچے تعلیم کے لیے آتے ہیں، ان کے پاس یونیفارم، کتابیں، جوتے خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، حکومت اور سول سوسائٹی ان کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ہم تمام سماجی کارکنوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ اپنے علاقے کے سرکاری سکولوں کا دورہ ضرور کریں۔ ان سکولوں میں وہ غریب بچے جا رہے ہیں جنہیں معاشرے اور ان کے گھر والوں نے رد کر دیا ہے، یہ بچے سکولوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ’مار نہیں پیار‘ کا اقدام اچھا ہے۔ بچوں کو جب سکول میں پیار ملتا ہے تو وہ تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ صدقہ، زکوٰۃ بھی ان بچوں کو دیتے ہیں۔ یہ غریب بچے سرکاری سکولوں میں پڑھ کر بورڈ میں ٹاپ کرتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ بہت محنت کرتے ہیں تاہم جہاں خرابیاں ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایڈمنسٹریشن کی بات کریں تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے آنے سے پہلے محکمہ سکولز ایجوکیشن میں لیڈر شپ میں صرف 3 فیصد خواتین تھیں، اس وقت یہ تعداد 30 فیصد ہوگئی، یہ حوصلہ افزاء ہے۔ گجومتہ کے ایک سکول کے حوالے سے بچی نے خدشے کا اظہار کیا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے والد سکول سے ہٹا لیں گے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وہاں پل تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ پرائمری سکول کی بچی کا مطالبہ تھا جو وزیراعلیٰ کی طرف سے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس سکول کی بچیاں آگے چل کر مزید پراعتماد ہوں گی اور معاشی مسائل پر آواز بھی اٹھائیں گی۔ گرلز ایجوکیشن کی بات کریں تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی لڑکیاں محروم ہیں لیکن ہمارے اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔اس وقت لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ شہروں کی بچیوں کو سکول جانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں کافی عرصے سے سرکاری سکولز نہیں بنائے گئے البتہ نجی سکولز موجود ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ اپنی معاشی کمزوری کی وجہ سے لڑکیوں کو سکول نہیں بھیجتے لیکن بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ لاہور کی آبادی کے تناسب سے یہاں 5 ہزار سکولوں کی ضرورت ہے لیکن صرف 1 ہزار سکول موجود ہیں۔نجی سکول بچیوں کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن ان کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی سرکاری سکول نہیں ہے۔ حکومت پنجاب کا ’زیور تعلیم‘ پروگرام ہے جس میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کی بچیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس وظیفے کا رزلٹ یہ ہے کہ تونسہ، ڈی جی خان کے ٹاپ کرنے والے بچے بڑے میڈکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ لاہور سب کا ہے لیکن لاہور کا کون ہے؟ لاہور کے بچے ان بہترین یونیورسٹیوں میں نہیں ملتے۔ یہ بچے برسوں سے اچھے سرکاری سکولوں سے محروم ہیں اور والدین نجی سکولوں میں بچے پڑھانے پر مجبور ہیں ۔ لاہور کے ارد گرد بھی بہت غربت ہے، یہاں کی لڑکیوں کو بھی تعلیمی سکالرشپ ملنی چاہیے۔ اسی طرح کے مسائل دیگر ترقی یافتہ شہروںکے بھی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نت کلاں لاہور، جو نوری نت کا گاؤں ہے ، وہاں سکول تعمیر کروایا ، وہاں کے ایک زمیندار نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک، یہ اس گاؤں کا پہلا سکول ہے۔ رحیم یار خان کی آبادی 44لاکھ ہے، وہاں 2700 سرکاری سکولز ہیں لیکن لاہور جس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے، یہاں ایک ہزار سکول ہیں۔پرائمری کی سطح پر ڈراپ آؤٹ کی شرح بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ مڈل اور سیکنڈری سکولز کی کمی ہے۔ زیور تعلیم پروگرام صوبہ پنجاب کے تمام علاقوں میں ہونا چاہیے۔ حکومت چائلڈ فرینڈلی سکولز بنانے پر کام کر رہی ہے۔ بچے، بچیوں کیلئے علیحدہ ٹائلٹ اورجنسی ہراسمنٹ سے پاک ماحول بنایا فراہم کیا جا رہا ہے۔ سکولوں میں سائیکالوجسٹ کی تعیناتی پر کام جاری ہے، نواز شریف سینٹر آف ایکسی لنس میں تعیناتی ہوچکی ہے۔ سکولوں کے اساتذہ کو لائسنس جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اقبال حیدر بٹ
(سی ای او یوتھ ٹیوب )
پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے لوگوں میں رجحان پیدا ہوا ہے لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم کا دائرہ کار بہت کم ہے۔ اس میں خط غربت سے نیچے رہنے والے شامل افراد شامل ہی نہیں ہیں جبکہ امراء نجی سکولوں میں اپنی بچیوں کی تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں ہونے والے اخراجات مجموعی طور پر حکومت کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ غریب بچیوں کی تعلیم کیسے ممکن ہوگی؟ ہمارے نظام تعلیم کے مسائل پیچیدہ ہیں لہٰذا سکولوں کی حالت زار اور ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے خواتین ہیڈ ٹیچرز کی ایجنسی بنانے اور ان کے آپس کے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پبلک پالیسی بیوروکریٹک ہونے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شدید سست روی کا شکار ہیں۔ آرڈر کے ذریعے جس طرح معاملات چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ایجنسی بنا کر ہیڈ ٹیچرز کو آپس میں مل بیٹھنے ، بات چیت کرنے اور بہتری لانے کے مواقع ملیں تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ ہم ایجوکیشن سیکٹر اور کمیونٹی کے روابط کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہم نے گزشتہ دنوں ایک ڈائیلاگ کا اہتمام کیا تاکہ مسائل کو حل کرنے ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھا جاسکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکولوں میں پڑھنے والی بچیاں بہت قابل ہیں۔ ہمارا ادارہ بچیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ان کیلئے تقاریر، سوشل میڈیا ریلز اورکوئز مقابلے کروائے گئے جن میں 100 سے زائد سکولوں کی طالبات نے حصہ لیا اور ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ہمارے ملک کی لڑکیوں میں بہت پوٹینشل ہے، اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
مزمل مجید
(پروگرام آفیسر یوتھ ٹیوب )
یہ عمومی رائے ہے کہ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں خود اعتمادی نہیں ہوتی جو بالکل غلط ہے۔ دور جدید میں اس طرح کے تصورات کو توڑنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سکولوں کی بچیوں نے خود سوشل میڈا ریلز بنائیں اور بتایا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہم اس پراجیکٹ کے ذریعے سرکاری سکولوں کی طالبات کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم انہیں پالیسی ڈائیلاگ کے کیلئے پنجاب اسمبلی بھی لے کر گئے اور وہاں ان کی تجاویز اور آراء سن کر حیرانی ہوئی کہ وہ بچیاں باشعور ہیں، اپنی رائے رکھتی ہیں جو زمینی حقائق اور ان کے تجربے اور مسائل کے حوالے سے ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو کلاس روم تک محدود کر دیا جس سے ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کتاب اور رٹہ پر توجہ دی جاتی ہے، جدید تقاضوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ہم نے طالبات کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے لانے کیلئے گرلز ایجوکیشن فیسٹیول کروایا۔اس فیسٹیول میں پنجاب بھر سے طالبات نے مختلف مقابلوں میں اتنا شاندار ٹیلنٹ دیکھایا کہ مقابلوں کے ججز کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں بہت پوٹینشل موجود ہے،اگر انہیں آگے بڑھنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ بہت آگے جاسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں عملی طور پر جدید طریقے استعمال نہیں کیے جاتے، عصر حاضر میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز ہیں جن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹک ٹاک ہے۔ پاکستان میں 25 ملین سے زائد ٹک ٹاک صارفین ہیں لیکن وہاں تعلیم کے حوالے سے مواد بہت کم ہے، ہمیں اس پر کام کرنا چاہیے تاکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو بھی شعور اور آگاہی مل سکے، خصوصاََ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آگاہی اورذہن سازی کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا وقت کی ضرورت ہے، یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کیلئے ہی اہم ہے لہٰذا ٹیچرز کی سوشل میڈیا ٹریننگ لازمی کروائی جائے۔ n
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل