Thursday, February 26, 2026
 

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ بل گیٹس کا روسی خواتین کیساتھ غیر ازدواجی تعلقات کا اعتراف

 



مائیکرو سافٹ کے شریک بانی اور دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک بل گیٹس نے غیر ازدواجی تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی فلاحی تنظیم بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے عملے سے باضابطہ معذرت کر لی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بل گیٹس نے اعتراف کیا کہ انھوں نے دو روسی خواتین کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات تھے جس پر وہ شرمندہ ہیں۔ امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس اپنے فاؤنڈیشن کے عملے سے ایک ٹاؤن ہال اجلاس میں خطاب کیا جس میں اپنی نجی زندگی سے متعلق تنازع پر کھل کر بات کی۔ بل گیٹس نے ندامت کا اظہار کیا کہ ان کی 27 سالہ شادی کے دوران دو روسی خواتین کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات رہے ہیں۔ بل گیٹس نے مزید بتایا کہ ایک خاتون روسی برج کھلاڑی تھیں جن سے ان کی ملاقات مختلف برج ایونٹس کے دوران ہوئی جبکہ دوسری خاتون روسی نیوکلیئر فزسٹ تھیں جن سے ان کا رابطہ کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے قائم ہوا۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ نجی طیارے پر جیفری اپیسٹین کے ساتھ سفر کر چکے ہیں اور امریکا سمیت دیگر ممالک میں ان سے ملاقاتیں بھی کیں تاہم انہوں نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے یا اس کا مشاہدہ کرنے کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا اور نہ ہی اپیسٹن جنسی اسکینڈل کی کسی بھی متاثرہ خاتون کے ساتھ وقت گزارا۔ بل گیٹس نے بتایا کہ اپیسٹین سے ان کی پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی اُس وقت اپیسٹین فلوریڈا میں کم سن لڑکی کو جسم فروشی کے لیے فراہم کرنے کے جرم میں سزا پا چکا تھا۔ بل گیٹس نے فاؤنڈیشن کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپیسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس پر معذرت خواہ ہیں۔ قبل ازیں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جولائی 2013 کی ایک ای میل جو مبینہ طور پر اپیسٹین کی جانب سے لکھی گئی تھی۔ اس ای میل میں دعویٰ کیا گیا کہ بل گیٹس نے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات کے بعد لاحق ہونے والی ایک جنسی بیماری کو اپنی اہلیہ میلنڈا گیٹس کو بچانے کی کوشش بھی کی تھی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا جب بدنامِ زمانہ سرمایہ کار جیفری اپیسٹین کے ساتھ بل گیٹس کے روابط سے متعلق نئی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل