Thursday, February 26, 2026
 

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری

 



وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری کر دی جس کے مطابق 96فیصد اسکولوں میں پختہ عمارتیں، 92 فیصد میں بیت الخلا اور 82 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔ غذائی قلت سے بچوں کے قد اور وزن میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پرائمری ، مکمل کرنے والی لڑکیوں کی شرح 75فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی، ہر سال لڑکیوں کی تعلیم میں سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔ جمعرات کو پی آئی ای میں گرلز ایجوکیشن سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 2023/24 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔یہ رپورٹ پی آئی ای ،ملالہ فنڈ ،پی اے جی ای اور وفاقی وزارت تعلیم کے اشتراک سے تیار کی گئی۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجہیہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز سینیٹر فوزیہ،ڈجی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا،شراکتداروں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے رپورٹ کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہماری پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہوں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا، بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔ ہمیں بھی اعداد و شمار کے بعد اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دنیا نے انہی کے ذریعے کامیاب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم سے ‘ڈراپ آؤٹ’ ہونے کا راستہ ہم صرف اپنے رویوں کو تبدیل اور اپنے دماغوں کو وسیع کر کے ہی روک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 14 کروڑ نوجوان ہیں،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس یوتھ کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا انہیں مواقع فراہم کر کے اپنا اثاثہ بنا رہے ہیں۔ہمیں جہالت کے خلاف جہاد اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔ ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری یا ہنر تھما دیتی ہے، اس کا حق ہے کہ اسے آگے بڑھنے دیا جائے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو گھریلو ذمہ داریاں ضرور دیں ، لیکن انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھنے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔ ہنرمند خواتین کو گھروں تک محدود رکھنا انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔ وفاقی وزیر نے اختتام پر کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں اور حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک ایکشن پلان ترتیب دینا ہے ، اس میں سامنے آنے والی کامیابیاں اور چیلنجز دونوں ہمارے لئے ایک نئی راہ متعین کریں گے۔ ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں تعلیمی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں لڑکوں سے بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ ہمارا مقصد اعداد و شمار کے زریعے ان خلیجوں کو نشاندہی کرنا ہے جو ہماری بچیوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں تا کہ پالیسی سازی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں اپنی فوقیت ثابت کر دی ہے۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (NAT) 2023 کے مطابق، لڑکیوں نے انگریزی، اردو ، سندھی اور ریاضی میں لڑکوں سے بہتر اسکور حاصل کیے۔ آٹھویں جماعت میں بھی وہ سائنس اور ریاضی میں آگے رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے فی ہزار بچوں اور سکولوں کا تناسب کم ریکارڈ ہوا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں معذروں کے سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ23 فیصد سکولوں میں ریمپ (Ramps) موجود ہیں تاہم کم تعلیمی ادارے ہیں جس میں خصوصی تدریسی مواد یا امدادی آلات دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں بتا یا گیا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں 23 فیصد اساتذہ بنیاد تربیت یافتہ ہیں ۔ 19فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی بجٹ کا حصہ 13فیصد سے کم ہو کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی فنڈز کا 94فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی تعداد مردوں کے برابر آ رہی ہے، لیکن روزگار میں ان کی شرکت صرف 24فیصد ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی سرمایہ کا ضیاع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب بھی ملک میں مجموعی طور پر 2.62 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے 1.34 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اگرچہ لڑکیوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، لیکن نظام کی کمزوریاں ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکیاں باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں منزل تک پہنچانے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی جدید تربیت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل