Loading
دفترخارجہ نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی کے حملے کے 19 برس مکمل ہونے پر انصاف میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی اور انتہا پسندانہ نظریات کے بڑھتے ہوئے رجحانات خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردی کے حملے کی 19ویں برسی کے موقع پر رد عمل میں کہا کہ 18 فروری 2007 کو بھارت کی سرزمین پر لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر ہونے والا حملہ ایک ہولناک دہشت گردی کا واقعہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں 68 بے گناہ مسافر جاں بحق ہوئے، جن میں 44 پاکستانی شہری شامل تھے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو ان پاکستانی شہریوں کے لواحقین کے لیے انصاف میں 19 برس کی تاخیر پر بھارتی حکومت کے رویے پر شدید مایوسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ طرز عمل متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد کے حوالے سے بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
حملے کے مبینہ ذمہ داران کی بریت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اس فیصلے کی مذمت کرتی ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندانہ نظریات کے بڑھتے ہوئے رجحانات خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے مطالبہ کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے ذمہ داران اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے منصفانہ اور شفاف قانونی عمل یقینی بنایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور دادرسی مل سکے۔
ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں پیش رفت اور نتائج سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل