Loading
مقبوضہ مغربی کنارے میں 2026 کے آغاز سے اسرائیلی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فلسطینی حقوق تنظیم Jerusalem Center for Legal Aid and Human Rights نے کہا ہے کہ سال کے پہلے چھ ہفتوں کے دوران اسرائیلی حکام نے 312 فلسطینی رہائشی اور زرعی ڈھانچے مسمار کیے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ادارے اوچا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے 18 فروری تک کی گئی انہدامی کارروائیوں سے تقریباً 21 ہزار فلسطینی متاثر ہوئے۔
زیادہ تر مسماری ایریا سی میں کی گئی، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 سے 23 فروری کے درمیان غیر قانونی آبادکاروں کے 86 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 60 فلسطینی کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے نتیجے میں 186 افراد بے گھر ہوئے، 64 زخمی ہوئے، 39 گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں اور 800 زیتون کے درخت اکھاڑ دیے گئے۔
تنظیم نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں، جو مقبوضہ علاقوں میں نجی املاک کی تباہی سے روکتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ مسماری اور جبری بے دخلی کا سلسلہ روکا جائے اور فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل