Friday, February 27, 2026
 

عبادت کا مہینہ یا آزمائش کا موسم

 



رمضان المبارک برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس وقت ہے جب مسلمان اپنے رب کے حضور جھکتے ہیں، بھوک اور پیاس کے ذریعے صبر، شکر اور ایثار کا درس لیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہ مقدس مہینہ عبادت سے زیادہ مہنگائی کی خبروں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ جیسے ہی رمضان المبارک چاند نظر آتا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو بھی جیسے پر لگ جاتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان سے قبل ہی بازاروں میں قیمتوں کا طوفان برپا ہوچکا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، پھل حتیٰ کہ کھجور بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو مہینہ رحمتوں کا پیامبر ہے، وہی مہینہ غریب کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے؟ ہمارا معاشی نظام کئی مسائل کا شکار ہے، مگر رمضان میں مہنگائی کی اصل وجہ طلب و رسد کا بگڑتا ہوا توازن اور ناجائز منافع خوری ہے۔ تاجر حضرات جانتے ہیں کہ اس مہینے میں اشیائے خوردونوش کی طلب بڑھ جاتی ہے، چنانچہ وہ قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی ایک ایسا ناسور ہے جو ہر سال سر اٹھاتا ہے۔ گودام بھر لیے جاتے ہیں اور مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی جاتی ہے۔ حکومت ہر سال رمضان پیکجز کا اعلان کرتی ہے، سستے بازار لگانے کی بات کی جاتی ہے، نرخ نامے جاری کیے جاتے ہیں۔ مگر عملی طور پر ان اقدامات کا فائدہ کتنا عام آدمی تک پہنچتا ہے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیاء یا تو دستیاب نہیں ہوتیں یا معیار پر سوال اٹھتے ہیں۔ سستے بازاروں میں رش اس قدر ہوتا ہے کہ عزتِ نفس مجروح ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے طبقے پر پڑتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور، رکشہ چلانے والا، گھروں میں کام کرنے والی خواتین، چھوٹے ملازمین ان سب کے لیے رمضان گزارنا ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ افطار کی سادہ سی دسترخوان بھی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جہاں ایک طرف ٹی وی اسکرینوں پر رنگا رنگ اشتہارات اور پُرتکلف افطار دکھائے جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف لاکھوں گھر ایسے ہیں جہاں صرف پانی اور روٹی سے روزہ کھولا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں، اخلاقی بحران بھی ہے۔ رمضان ہمیں صبر، تقویٰ اور ایثار سکھاتا ہے، مگر ہم اس مہینے کو منافع بڑھانے کا موقع سمجھ لیتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے دین کی روح کے خلاف نہیں؟ نبی کریمؐ نے تجارت میں دیانت داری کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ پھر کیوں ہم ان تعلیمات کو بھلا دیتے ہیں؟ میڈیا بھی اس صورتحال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر میڈیا مسلسل نگرانی کرے، قیمتوں کا تقابل پیش کرے اور عوامی آواز کو حکام تک پہنچائے تو شاید کچھ بہتری آ سکے۔ اسی طرح شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بلا ضرورت خریداری، ذخیرہ اندوزی اور اسراف سے گریز کرنا ہوگا۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں کرنسی کی قدر میں کمی، درآمدات پر انحصار، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کا بوجھ شامل ہیں۔ مگر رمضان میں اچانک قیمتوں کا بڑھ جانا محض معاشی مجبوری نہیں بلکہ انتظامی ناکامی بھی ہے۔ اگر موثر نگرانی ہو، منڈیوں میں باقاعدہ چیکنگ ہو اور جرمانے سخت ہوں تو قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم خود احتسابی کریں۔ رمضان صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا مہینہ ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں بھی انصاف، دیانت اور رحم دلی کو نہ اپنایا تو پھر کب اپنائیں گے؟ تاجر اگر منافع کم بھی کر لے تو اس کے رزق میں برکت ہو سکتی ہے۔ اور اگر حکومت سنجیدگی سے پالیسی بنائے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔ آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ رمضان کو مہنگائی کا نہیں، آسانی کا مہینہ بنایا جائے۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، تاجر خوفِ خدا اختیار کریں، اور صاحبِ حیثیت لوگ مستحقین کی مدد کریں۔ تبھی یہ مہینہ واقعی رحمت اور برکت کا پیامبر بن سکے گا۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل