Saturday, February 28, 2026
 

مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع

 



ماہِ رمضان میں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کر دیا گیا ہے، تاہم اہلیت کے معیار اور طریقۂ کار پر سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے باوجود بعض کم آمدن گھرانے فہرستوں سے باہر رہ گئے ہیں جبکہ کچھ ایسے افراد کو بھی ادائیگیاں ہونے کی اطلاعات ہیں جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ پنجاب حکومت کے رمضان نگہبان پروگرام کے تحت تقریباً 47 ارب روپے 42 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، ہر خاندان کو 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت 38 ارب روپے 1 کروڑ 21 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کرے گی، فی خاندان 13 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق رقوم کی ادائیگی بینک اکاؤنٹس، برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور اے ٹی ایم نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ تاہم زمینی سطح پر بعض بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد طاہر، جو دیہاڑی دار مزدور ہیں اور چار بچوں کے کفیل ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی انہیں امداد نہیں ملی اور اس سال بھی ان کے گھر کوئی سروے ٹیم نہیں آئی۔ اسی طرح جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد انصر، جو لاہور میں ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اپنی معذور بیٹی کے علاج کے اخراجات کے باوجود انہیں اس سال بھی امداد نہیں ملی۔ محمد انصر کے مطابق جب انہوں نے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ادائیگیاں سروے رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور ان کے گھر دوبارہ سروے کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے کوئی مدت نہیں بتائی گئی۔ دوسری جانب لاہور کے ایک شہری آصف نے بتایا کہ گزشتہ سال انہیں یونین کونسل کی جانب سے 10 ہزار روپے کا چیک وصول کرنے کے لیے فون کیا گیا، حالانکہ ان کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ روپے سے زائد ہے اور انہوں نے کبھی امداد کے لیے درخواست بھی نہیں دی۔ اس مثال نے مستحقین کی نشاندہی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی نائب چیئرپرسن جہاں آرا وٹو کے مطابق اہلیت کا تعین نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا۔ کم آمدن خاندانوں کو غربت اسکور کے تحت ترجیح دی گئی جبکہ ضلعی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران نے فہرستوں کی تصدیق کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمومی معیار میں سرکاری ملازمت نہ ہونا، قابل ذکر جائیداد کا مالک نہ ہونا اور نادرا میں درست اندراج شامل ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکرٹری عامر علی احمد نے کہا کہ شفاف ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کی جائے گی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں امدادی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم ماہرین معاشیات نے موجودہ طریقۂ کار پر محتاط تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق سوشل رجسٹری پر انحصار سے عمل تیز ہو جاتا ہے، لیکن پرانا یا غیر اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا شمولیت اور اخراج کی غلطیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت میں حقیقی مستحق خاندان فہرست سے باہر رہ سکتے ہیں جبکہ کچھ غیر مستحق افراد شامل ہو سکتے ہیں۔ معاشی ماہر اور آڈٹ اسپیشلسٹ کوکب زبیری کا کہنا ہے کہ صرف شناختی کارڈ یا رجسٹری ڈیٹا کی بنیاد پر تصدیق کافی نہیں۔ ان کے مطابق زمین کی ملکیت، آمدن اور ملازمت کی حیثیت کی جانچ کے ساتھ فیلڈ ویریفکیشن کو مؤثر بنایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا کو فوری اپ ڈیٹ کرنے، مختلف ذرائع کے ڈیٹا کو باہم ملا کر جانچنے اور مؤثر شکایات ازالہ نظام فعال کرنے کی تجویز دی۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ نقد امداد کے ساتھ ساتھ منڈیوں میں قیمتوں کے استحکام اور ہدفی سبسڈی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ حقیقی فائدہ مستحق خاندانوں تک پہنچ سکے اور مجموعی ریلیف مؤثر ثابت ہو سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل