Loading
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں ناقص کارکردگی پاکستانی کرکٹرز کی جیب پر بھاری پڑ گئی، پی سی بی نے 50، 50 لاکھ روپے کا جرمانہ کر دیا، درحقیقت اس کا فیصلہ بھارت سے شکست کے بعد ہی ہوگیا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکام نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ لاڈ پیار بہت ہو چکا اب پرفارم کیا تب ہی مالی فوائد حاصل ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم نیدرلینڈز سے ابتدائی مقابلے میں شکست سے بال بال بچی، پھر امریکا کو بھی ہرا دیا، سری لنکن کنڈیشنز سے واقفیت اور معیاری اسپن بولرز کی موجودگی میں اس بار بھارت کے خلاف بہتر کھیل کی توقع تھی، البتہ ایشیا کپ کے تین میچز کی طرح ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
اس کے بعد نمیبیا کو زیر کرکے سپر8 میں تو جگہ بنا لی مگر نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہوگیا، پھر انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سیمی فائنل میں رسائی اگر مگر کی محتاج ہوگئی۔
انگلینڈ نے کیویز کو ہرا کر پاکستانی امیدیں جگائیں مگر سری لنکا کے خلاف ٹیم کی بمشکل فتح سے رن ریٹ بہتر نہ ہو سکا، یوں نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں رسائی مل گئی اور گرین شرٹس کا سفر ختم ہوگیا۔ اس کارکردگی سے شائقین کی طرح بورڈ حکام بھی ٹیم سے خاصے ناراض ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں ہر کھلاڑی پر 50، 50 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا جا چکا، حکام نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا کہ لاڈ پیار بہت ہو چکا اب پرفارم کیا تب ہی مالی فوائد حاصل ہوں گے، جب اچھی کارکردگی پر پلیئرز انعام پاتے ہیں تو ناقص کھیل پر جرمانہ بھی بھرنا چاہیے، درحقیقت بھارت سے میچ ہارنے کے بعد ہی ٹیم کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ اس وقت قومی کرکٹرز کی سالانہ آمدنی کروڑوں میں ہے، اے کیٹیگری پلیئر کا ماہانہ 45 لاکھ روپے معاوضہ اور آئی سی سی کی آمدنی کا شیئر 20 لاکھ 70 ہزار روپے ہے، بی کیٹیگری کو 30 لاکھ ماہانہ معاوضہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500 آئی سی سی شیئر دیا جاتا ہے۔
سی کیٹیگری کا ماہانہ معاوضہ 10 لاکھ اور آئی سی سی شیئر 10 لاکھ 35 ہزار ہے جبکہ ڈی کیٹیگری کا ماہانہ معاوضہ ساڑھے سات لاکھ اور آئی سی سی شیئر 5 لاکھ 17 ہزار500 ہے، میچ فیس الگ ہے۔
یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کے سینٹرل کنٹریکٹ میں کسی کو بھی اے کیٹیگری میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی نے پلیئرز کو مالی آسودگی فراہم کرنے کے لیے ہی پی ایس ایل میں آکشن ماڈل متعارف کروایا، اوپنر صاحبزادہ فرحان نے کچھ عرصے قبل اس حوالے سے شکایت کی تھی کہ انھیں جائز معاوضہ نہیں ملتا، اب اسٹار کرکٹرز کو کروڑوں کے کنٹریکٹس مل گئے لیکن کارکردگی میں فرق نہ آ سکا اس سے حکام ناخوش ہیں۔
جاری ورلڈ کپ میں صاحبزادہ فرحان 383 رنز بنا کر سب سے آگے ہیں۔ حیران کن طور پر دیگر ٹاپ بیٹرز صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان انفرادی طور پر پورے ٹورنامنٹ میں 100 رنز بھی نہیں بنا سکے۔ بولرز میں بھی 10 وکٹیں لینے والے اسپنر عثمان طارق کے سوا دیگر کی کارکردگی اوسط درجے کی رہی۔
اس وقت قومی ٹیم پر مائیک ہیسن کا راج ہے، کپتان سلمان علی آغا کو صرف سامنے رکھا جاتا ہے جبکہ شاداب خان فیصلوں میں شریک رہتے ہیں، وہ اسلام آباد یونائٹیڈ کی وجہ سے ہیسن کے بے حد قریب ہیں۔
ایونٹ سے قبل ہی فخر زمان کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ ابتدائی میچز کی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں ہوں گے، ان کا درست استعمال نہیں کیا گیا۔ سری لنکا کے خلاف جب فخر کو اوپننگ کا موقع ملا تو 200 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنا کر افادیت ثابت کر دی تاہم تب تک دیر ہو چکی تھی۔
سینیئر بیٹر بابر اعظم توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، سلمان بطور بیٹر بدترین ناکامی کا شکار ہوئے جبکہ کپتان کی حیثیت سے بھی ان کے فیصلوں پر سوال اٹھتے رہے، آئندہ چند دنوں میں پی سی بی مزید سخت فیصلے بھی کر سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل