Loading
امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکی میرینز نے اتوار کے روز کراچی کے قونصل خانے پر دھاوا بولنے کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی۔
اتوار کو 11 افراد اس وقت مارے گئے جب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران پر حملوں کے دوران شہادت کے بعد مظاہرین کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوگئے۔
ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ میرینز کی طرف سے کیے گئے فائر کسی کو لگے یا نہیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عمارت کی حفاظت پر مامور پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز اور مقامی پولیس کی طرف سے بھی گولیاں چلائی گئیں یا نہیں۔
سندھ حکومت کے ترجمان نے کہا کہ "سیکیورٹی" اہلکاروں نے فائرنگ کی، انہوں نے "سیکیورٹی" اہلکاروں کی وابستگی کی وضاحت نہیں کی۔
امریکی سفارتی مشنز میں روز مرہ کی سیکیورٹی کی ذمےداریاں اکثر نجی ٹھیکیداروں اور مقامی فورسز کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں جب کہ اس واقعے میں میرینز کا ایکشن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قونصل خانے نے خطرے کو کتنی سنجیدگی سے دیکھا۔
کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں۔
اس حوالے جب سوالات کیے گئے تو امریکی میرینز نے سوالات امریکی فوج کو بھیجے، جس کے نتیجے میں وہ سوالات محکمہ خارجہ کو بھیجے گئے، محکمہ خارجہ نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل