Loading
اسرائیلی فوج نے تہران میں واقع ایرانی صدر کے کمپاؤنڈ پر بڑا حملہ کردیا ہے جہاں مرکزی حکومت کے مرکزی دفاتر ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کیے جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے عمارتیں موجود ہیں۔
اس حملے کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فریقین نے تشدد میں اضافے سے بچنے کی اپیل کی ہے۔
تاحال اسرائیل کے صدارتی دفتر پر حملے میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اپنے اہل خانہ سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ میں شہید ہوگئے تھے۔
جس کے بعد ایران میں حکومتی امور ایک کونسل کے ذمے ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک کام کرتی رہے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل