Wednesday, March 04, 2026
 

نیشنل سیکیورٹی پر ہم نے اصولی موقف اپنایا کہ پارلیمنٹ میں بریفنگ دی جائے، بیرسٹر گوہر

 



چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ  پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی پر ہم نے اصولی موقف اپنایا ہے کہ پارلیمنٹ میں بریفنگ دی جائے، ہم چاہ رہے تھے کہ افغانستان اور ایران امریکا کشیدگی پر بریفنگ لیں لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے جوائنٹ سیشن میں کب تک ہم ان کے ساتھ بیٹھتے رہیں گے؟ جب یہ ہمیں اہمیت ہی نہیں دیتے، ہماری پارلیمان میں موجودگی کو یہ تسلیم نہیں کرتے تو ہم کیوں آئیں؟ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی، ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی، ذاتی معالجین سے معائنہ تک نہیں کروایا جارہا، آپ کا رویہ انتہائی سخت ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ فوٹو سیشن کے لیے آپ کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں؟ ایسا نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے کل میری نشست پر آکر وزیراعظم کی بریفنگ میں شرکت کا پیغام دیا تھا میں ان کا مشکور ہوں ان کی رائے قابل احترام ہے، ہم نے یہ معاملہ اپنی سیاسی کمیٹی میں رکھا ہمارے کچھ تحفظات تھے اور ہیں، ہم نے قومی سلامتی کے مسئلے پر ہمیشہ ملک کا ساتھ دیا، پاک بھارت جنگ ہو، پاک افغانستان کشیدگی ہو یا ایران امریکہ تنازع ہم ملک کے ساتھ کھڑے ہوئے ہمارے بیانات آن ریکارڈ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری ہے یہ ملک ہمارا ہے، فوج قربانیاں دے رہی ہے ہم اس کو سلام پیش کرتے ہیں، افغانستان سے جو دہشت گردی ہورہی ہے ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، دہشت گردوں کو پیچھا کرکہ ان کا منتقی انجام تک پہنچانا چاہیے، افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے مذاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیے، پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین نہیں استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں ںے کہا کہ ہم ان کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود یہ انسانی بنیادوں پر بھی ہمیں ہمارے لیڈر سے نہیں ملنے دے رہے، ہم آج اپنے لیڈر کی وجہ سے اس اسمبلی میں ہیں، اپنے کو توڑ کر آپ دنیا میں بلاک نہیں بنا سکتے اپنوں کو توڑ کر آپ لوگوں کو نہیں جوڑ سکتے، ہمارا جائز مطالبہ تھا کہ پارلیمان کو مضبوط کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر بریفنگ دی جاتی دونوں ایوانوں کو نمائندوں کو مدعو کیا جاتا اس سے اس ہاؤس کی توقیر میں اضافہ ہوتا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت ہیں ہم سوشل میڈیا کے دباؤ پر فیصلے نہیں کرتے، قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہے، لیکن ہم صرف آپ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے آپ کے ساتھ فوٹو سیشن کے لیے نہیں بیٹھ سکتے، 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ ہم نے لیے ہیں 300 سے زائد ہمارے پارلیمنٹرینز ہیں، ہمیں اگر آپ آئیسولیٹ کریں گے تو آپ خود ہی فوٹو سیشن کرلو ہم الگ ہی رہیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل