Loading
عمومی طور پر پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں دیگر صوبوں کے مقابلے میں سیاسی،سماجی ،انتظامی اور معاشی ترقی زیادہ ہوئی ہے جو ایک حد تک درست بات ہے ۔ لیکن اس بات کو بنیاد بنا کر ہم پورے پنجاب کی منصفانہ اور شفاف ترقی کی بات نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں یعنی پنجاب میں بھی جو بھی حکمران طبقات رہے ہیں ان کی ترقی کا پیمانہ بھی طبقاتی تقسیم اور اس کی بنیاد پر ترقی سے جڑا ہوا ہے ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں بھی ہمیں ترقی سے جڑے سرکاری اعداد وشمار کی بنیاد پر محرومی ، تعصبات اور تفریق پر مبنی سیاست اورترقی کے پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان میں ایک بڑا علاقہ جنوبی پنجاب کا بھی ہے ۔ہمارے جو اعداد وشمار ہیں اس میں جنوبی پنجاب کی ترقی کی بنیاد پر بیشتر سنجیدہ مسائل جن میں حکمران طبقات کی ترجیحات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سمیت کمزور طبقات کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نمایاں نظر آتی ہے ۔
جنوبی پنجاب کی سطح پر دیکھیں تو وہاں لوگوں کی سیاسی ،انتظامی ،معاشی ترقی سمیت ان کے بنیادی مسائل اور حقوق کی جنگ لڑنے میں بعض سماجی تنظیموں کا بڑا مثبت کردار ہے ۔اسی مضبوط اور مثبت کردار کی وجہ سے نہ صرف یہ سماجی تنظیمیں مقامی سطح پر اپنی سیاسی ساکھ کو شفافیت کی بنیاد پر قائم رکھی ہوئی ہیں بلکہ مقامی لوگ ان کے کاموں اور اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان تنظیموں میں ایک بڑا اور نیک نام ’’لودھراں پائلٹ پراجیکٹ‘‘ یعنی ایل پی پی کا ہے۔ اس تنظیم کے روح رواں اور سرپرست جہانگیر خان ترین ہیں جو جنوبی پنجاب کی سطح پر سیاسی اور سماجی شہرت میں بڑا نام رکھتے ہیں ۔
لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر کراچی کی سطح پر شروع ہونے والے ایک معروف سطح کے ادارے اور ڈاکٹر اختر حمید خان مرحوم کی سربراہی میں چلنے والے ’’ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ ‘‘ اوپی پی کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر اپنی بڑی شہرت رکھتا ہے۔ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ بنیادی طور پر جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں مختلف سماجی شعبوں میں کام کرتا ہے ۔اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور خان ہیں جب کہ پروگرام کی معاونت میں عالیہ سندس سمیت اقصی خان ہیں ۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر مقامی سطح پر لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اپنا جہاں کردار ادا کرتا ہے وہیں سماجی شعور اور بیداری کی بنیاد پر لوگوں کو علم اور معلومات بھی فراہم کرتا ہے جن میں مختلف نوعیت کے تربیتی پروگرامز بھی شامل ہوتے ہیں ۔
جنوبی پنجاب میں بنیادی صحت کی فراہمی اور اس سے جڑی سہولیات اہم مسئلہ ہے ۔عام اور کمزور لوگوں کی صحت سے جڑی بنیادی نوعیت کی سطح پر سہولیات تک رسائی بھی آسان نہیں ہے ۔اسی بنیاد پر ایل پی پی مختلف طبی کیمپ کی مدد سے مسلسل نہ صرف غریب لوگوں کے لیے علاج کی سہولتیں فراہم کررہا ہے بلکہ علاقے کے سب سے کمزورطبقات میں امید ،اعتماد اور وقار بھی پیدا کررہا ہے ۔پچھلے ایک برس میں ایل پی پی نے 45مختلف آنکھوں کے کیمپوں کا انعقاد کیا جن میں کل 73,924مریضوں کو طبی امداد دی گئی ۔ان میں36623مرداور 37301 عورتیں سمیت کچھ خواجہ سرا بھی شامل ہیں۔یہ سارا عمل ظاہر کرتا ہے کہ ایل پی پی مقامی سطح پر مقامی افراد یا کمیونٹی کے ساتھ کس قدر مضبوط سطح کے روابط رکھتی ہے یا لوگ مقامی سطح پر ان کے کاموں پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔اسی طرح اب تک ان کے ادارے نے آنکھوں کی بیماری کی بنیاد پر 10296آپریشن کیے ہیں جن میں 5194مرد اور 5362عورتیں شامل ہیں۔
ان بیماریوں میں بیشتر بیماری موتیا جیسے مرض کی بھی سامنے آئی تھیںاور مریضوں کو آپریشن کے بعد کے تمام ضروری اقدامات کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں ۔اس کام کے سلسلے میں اس ادارے نے ماہر ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کی ٹیموں کی خصوصی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔اس ادارے کا مقصد مقامی لوگوں تک بہتر علاج کی رسائی کو ممکن بنانا ان کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے اور اس عمل میں کسی بھی سطح پر نہ تو کسی بھی قسم کی تفریق کی جاتی ہے اور نہ ہی لوگوں کو سہولیات کی فراہمی سے انکار کیا جاتا ہے ۔اس وقت لودھراں ،رحیم یار خان،بہاولپور،مظفر گڑھ اور ڈی جی خان سمیت خانیوال میں ان کا کام بخوبی چل رہا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ سارا کام کمیونٹی کی شراکت اور ان کو ہر عمل میں شریک کرکے کیا جائے تاکہ ان کی عز ت و نفس کا بھی پوری طرح خیال رکھا جائے۔
اسی طرح لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے انکھوں کے کیمپ کے علاوہ حال ہی میں بیس دن پر مشتمل مصنوعی اعضا کیمپ کا بھی انعقاد کیا جس کا مقصد مقامی سطح پر معذور افراد کی بحالی کے عمل کو ممکن بنانا تھا جس میں ان کو مصنوعی اعضا کی فراہمی اور بحالی میں مدد فراہم کرنا اور ان کو معذور کی بجائے خود سے خود مختاری کے قابل بنانا ہے۔یہ سار ا کام جہانگیر ترین کی سربراہی میں ہوا اور وہ خود اس عمل کی ذاتی طور پرنگرانی کے عمل میں شریک رہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کیمپوں میں معذور افراد کو دی جانے والی سہولتوںکی بنیاد پر ان کو سائیکل چلانے ،موٹر سائیکل کو چلانے اور یہاں تک کہ ٹریکٹر چلانے کی تربیت بھی فراہم کی۔اب تک 1327افراد کو مصنوعی اعضا فراہم کیے گئے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر ان کے مختلف پورگرامز فیلڈ میں جاکر دیکھے ہیں اور واقعی ان کا کام جہاں شاندار ہے وہیں یہ کام مقامی آبادی میں مقامی لوگوں میں ایک بڑی خود اعتمادی کو بھی پیدا کررہا ہے ۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معذور افراد کو مختلف سماجی اور غیر نصابی سرگرمیوں سمیت کھیلوں کے عمل میں شامل کیا جائے جہاں وہ مثبت ذہن کے ساتھ اپنے آپ کو ایک مثبت کردار کے طور پر شریک کرسکیں اور اپنی معذوری کو مجبوری بنانے کی بجائے بہتر طور پر اپنی زندگی گزارسکیں ۔
اسی طرح ادارے کی سطح پر معاونین کے لیے ایک تربیتی مہارت کا سینٹرز بھی قائم کیا ہوا ہے جہاں مختلف لوگوں کو مختلف مہارتوں کی بنیاد پر تربیت دے کر ان کو معاشرے میں خود کفیل بنانا ہے ۔اصل میں ایسے علاقے جہاں محرومی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کمزور بنیادوں پر ہو اور جہاں مقامی ڈھانچہ بھی کمزور ہو وہاں اس طرح کے سماجی اداروں اور ان کے کاموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ایل پی پی نے اپنے کاموں کی مدد سے ماڈل ترقی کے مختلف منصوبوں کو پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ اگر مقامی سطح پر مقامی لوگوں کی درست ترجیحات یا ان کے مسائل کی درست نشاندہی کی بنیاد پر مقامی ترقی کا جامع منصوبہ ہو اور مقامی لوگوں کو اس ترقی کے عمل میں سہولت کار یا ان کی معاونت کے طور پر شامل کیا جائے تو مقامی ترقی کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے ۔بنیادی مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام عام لوگوں کے مسائل سے مختلف ہے اور یہ مختلف طاقت ور طبقات کے گرد یا ان کے مفادات کے تابع رہتا ہے۔
یہ ہی وجہ ہے ہمارے یہاں جو سرکاری یا غیر سرکاری سماجی شعبہ کی سطح پر اعداد وشمار ہیں وہ حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتے ہیں۔یہ جو ہم عالمی اور قومی سطح پر 2015-30پائیدار ترقی کے اہداف مقرر کیے تھے اس میں بھی اب تک ہماری کارکردگی اور نتائج وہ نہیں جو اصولی طور نظر آنے چاہیے تھے ۔اسی بنیاد پر مختلف عالمی اداروں کی پاکستان کے سماجی شعبوں کی درجہ بندی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ایسی ریاست اور کمزور حکمرانی کے نظام میں اس طرح کی سماجی تنظیموں اور بالخصوص لودھراں پائلٹ پراجیکٹ جیسی تنظیوں کی موجودگی اور تواتر کے ساتھ مقامی سطح پر مقامی ترقی کو بنیاد بنا کر کام کرنے کی ہمیشہ پزیرائی کی جانی چاہیے۔لیکن ساتھ ساتھ اس طرز کی تنظیموں کو اپنی ایڈوکیسی پر مبنی سرگرمیوں کی بنیاد پر حکومتی نظام پربھی نہ صرف سوالات اٹھانے چاہیے بلکہ مقامی سطح پر حکومتوں کے کام کی نگرانی اور ان کی جوابدہی کے نظام کو بھی موثر بنانا ہوگا تاکہ مقامی ترقی میں جو وسائل حکومتی سطح پر آتے ہیں ان کو موثر بنایا جائے اور ایک ایسا جامع منصوبہ مقامی ترقی کا ہو جہاں حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر ترقی کے عمل کو آگے بڑھاسکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل