Wednesday, March 04, 2026
 

پیدائش اورموت (پہلا حصہ)

 



ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘  یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے دیر وحرم میں رہنے والو رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو  پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔ یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے  ’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘  اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔ ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش  ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔  یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ امور مملکت خویش خسرواں دانند گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش  ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔ جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے رناں والیاں دے پکن پروٹھے تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔ (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل