Loading
پنجاب حکومت نے لاہور کی طرز پر کچے کے علاقے میں سیف سٹی پروجیکٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
منصوبے کے تحت کچے کے علاقے کے جغرافیائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ سیف سٹی اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق دریائی جزائر اور گھنے جنگلات کی نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ گنے کی فصلیں جرائم پیشہ عناصر کے لیے پناہ گاہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچے کے علاقے میں موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر منصوبے میں تھرمل اور ٹیذرڈ ڈرونز کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اسی طرح رات کے وقت مؤثر مانیٹرنگ کے لیے تھرمل کیمروں اور گاڑیوں کی جدید ٹریکنگ سسٹم کو بھی شامل کیا جائے گا۔
منصوبے میں انٹیگریٹڈ کنٹرول روم کے ذریعے مربوط آپریشنز اور سولر پاورڈ سرویلنس سائٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں کی مکمل کوریج کو یقینی بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے اور مجموعی طور پر اس پر 67 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل