Thursday, March 05, 2026
 

 ملک میں پیٹرول کی قلت شروع، حکومت کا ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

 



پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول پمپس پر قلت شروع ہونا شروع ہو گئی ہے، دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسیمع خان  نے کہا کہ  ملک میں پیٹرول کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے ۔ مختلف پیٹرول پمپس پر قلت  ہونا شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔  پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے، اس سے غریب، موٹر سائیکل سوار طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ آئی جی سندھ پیٹرول پمپس کی سیکیورٹی یقینی بنائیں ۔ عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ  لوگ بڑی مقدار میں پیٹرول پمپوں سے پیٹرول کی خریداری کر رہے ہیں ۔ حکومت پیٹرولیم کے ذخائر  کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے۔ ڈیلرز کو اس کی اوسطاً سیل سے 50 فیصد کم پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں، پیٹرول پمپوں پر جھگڑے شروع ہوگئے ہیں ۔ کل ہم پر الزام عائد نہ کیا جائے کہ ہم گڑ بڑ کررہے ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس اور لیوی فوری ختم کی جائے۔ حکومت سے بات کرتے ہیں تو وہ کمیٹی بنا دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کرنے جارہی ہے ۔ ہم اتنا مہنگا پیٹرول نہیں دے سکتے یا تو ہم پیٹرول پمپس بند کردیں ۔ شہر کے متعدد پیٹرول پمپس ڈرائی ہورہے ہیں ۔ اس صورتحال میں امن و امان کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے  ذخائر وافر ہیں، حکومت دوسری جانب جغرافیائی و علاقائی صورتحال کے پیشِ نظرحکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قومی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اوگرا نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہ پر توجہ نہ دیں اور نہ ہی غیر ضروری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری یا ذخیرہ اندوزی کریں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا انہیں غیر مجاز مقامات پر رکھنے میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بالخصوص وہ مقامات جو باقاعدہ لائسنس یافتہ آئل ڈپو یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے علاوہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض عناصر ایسے حالات میں ناجائز منافع خوری کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رحجان کی روک تھام کے لیے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کریں تاکہ وہ معائنہ کریں اور جہاں کہیں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پائی جائے وہاں متعلقہ مقامات کو سیل کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ٹیمیں بھی فیلڈ میں موجود ہیں ۔ آئل ڈپوز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی روک تھام کی جاسکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل