Loading
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے جامع پیکیج، گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر دائرے میں گیس کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں کے لیے تکنیکی گرانٹس اور فنڈز کی منظوری دے دی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
اجلاس میں گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں دیہات کو گیس کی فراہمی کے لیے 3 ارب روپے کی منظوری دی گئی، اسکیموں پر عمل درآمد سوئی ناردرن اور سدرن کے ذریعے کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بی ای سی ایس کے اساتذہ کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 20 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، عدالتوں کی ہدایات کے مطابق کم از کم اجرت کے فرق کی ادائیگی کی جائے گی۔
مون سون آپریشنز اور بیرون ملک انسانی امداد کے لیے ساڑھے 3 ارب منظور کیے گئے، پاور ڈویژن کے ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کیلئے ایک ارب سے زائد کی گرانٹ منظور ہوئی۔
اعلامیے کے مطابق بجلی کے شعبے میں پیداواری لاگت اور گردشی قرض کم کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج منظور کرلیے گئے۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے کو 3 ارب 63 کروڑ روپے فراہمی کی منظوری دی گئی، فنڈز مون سون 2025ء آپریشن اور امدادی سرگرمیوں کی مد میں دیئے جائیں گے
عالمی توانائی فورم کی رکنیت کے لیے ایک کروڑ 31 لاکھ روپے، گیس پیداوار والے علاقوں کے قریب دیہات کے لیے تین ارب روپے کے منصوبے منظور کیے گئے، بنیادی ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کے اساتذہ کے واجبات کے لیے 20 کروڑ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے اضافی 40 لاکھ ڈالر فنڈز پر رعایت کی منظوری دے دی گئی۔
پائیدار ترقی پروگرام کے بجلی کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے منظور کرلیے گئے۔ ای سی سی نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا جامع پیکیج منظور کر لیا۔ اصلاحات سے بجلی پیداوار کی لاگت اور گردشی قرض کم کرنے میں مدد ملے گی۔
سرکاری آگاہی مہم کے بقایا جات کے لیے ایک ارب 47 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، وزارت اطلاعات کو باقی رقم اگلی سہ ماہی میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل