Loading
ایف آئی اے امیگریشن نے جعلی تعلیمی اسناد پر نارتھ سائپرس جانے کی کوشش ناکام بناکر مسافر کو آف لوڈ کردیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن کے جناح ٹرمینل ائیرپورٹ پر تعینات عملے نے کارروائی کے دوران مسافر کو جعلی ڈگریوں کے شبے پر روکا، چکوال سے تعلق رکھنے والا مسافر محمد عاصم نارتھ سائپرس کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا پر سفر کر رہا تھا۔
امیگریشن کلیئرنس کے دوران کاؤنٹر آفیسر نے مسافر کو مزید جانچ پڑتال کے لیے جی آر او کے حوالے کیا، مسافر کی سفری دستاویزات اور پروفائلنگ کے دوران اس کے تعلیمی کاغذات کی تفصیلی جانچ کی گئی۔
مسافر کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (2010) اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (2012) پیش کیے گئے، اسی طرح مسافر نے یونیورسٹی آف لاہور سے بی ایس کمپیوٹر سائنس کی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ بھی پیش کیے، جانچ پڑتال کے دوران مذکورہ تعلیمی دستاویزات مشکوک اور جعلی ہونے کا شبہ ظاہر ہوا۔
مزید تکنیکی تصدیق کے دوران دستاویزات پر موجود وزارت خارجہ کے مبینہ تصدیقی لیبل پر درج کیو آر کوڈ ایک مشکوک اور غیر سرکاری ویب سائٹ پر ری ڈائریکٹ ہوتا پایا گیا جس سے شبہ پیدا ہوا کہ وزارت خارجہ کی تصدیق جعلی اور دھوکا دہی سے تیار کی گئی ہے۔
مزید تفتیش کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ مذکورہ تعلیمی اسناد اسلام آباد کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 2 میں واقع اے ٹی آر اے سی کنسلٹنٹ کے نمائندے ارسلان کے ذریعے حاصل کی گئیں، مسافر کے مطابق مذکورہ ایجنٹ کو آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے 13 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔ مسافر نے بتایا کہ اس کا مقصد مذکورہ ایجنٹ کی مدد سے بیرون ملک مزید مواقع تلاش کرنا تھا۔
مسافر کے لیپ ٹاپ کی جانچ پڑتال کے دوران مزید متعدد دستاویزات پی ڈی ایف فارمیٹ میں برآمد ہوئیں، برآمد شدہ دستاویزات میں راولپنڈی بورڈ کے مبینہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹس بھی شامل تھے۔
اسی طرح امریکا کی ایک کمپنی کی جانب سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ منیجر کے عہدے کا مبینہ سرٹیفکیٹ اور آئی لیٹس سرٹیفکیٹ بھی برآمد ہوا، لیپ ٹاپ سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جی میل اکاؤنٹس، پاسپورٹ سے متعلق معلومات اور مختلف یو آر ایل شیٹس بھی برآمد کی گئیں، مذکورہ حقائق کی روشنی میں مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا اور مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے سپرد کردیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل