Loading
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ سے واپسی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار کا دکھ گہرا ہے۔
سیمی فائنل تک رسائی میں ناکامی نے ایک بار پھر ان دراڑوں کو واضح کر دیا ہے جنہیں ہم اکثر جیت کے پیچھے چھپا دیتے ہیں۔ شائقینِ کرکٹ آج مایوس ہیں اور ان کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہے: کب تک ہم ’دوستیوں‘ اور ’سفارشوں‘ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟
پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ مسلسل ناکامیوں نے آج ہر محب وطن پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا واقعی ہماری کرکٹ اب دم توڑ رہی ہے؟
کرکٹ ہمارے لیے محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، لیکن افسوس کہ اس جذبے کو اب سفارشی کلچر اور اندرونی سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ جب ہم ورلڈ کپ کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ یہ صرف ہار نہیں تھی بلکہ اس ڈھانچے کی تباہی کا اعلان تھا جسے ہم برسوں سے سینچ رہے تھے۔
سب سے پہلے تو ہمیں مائیک ہیسن جیسے غیر ملکی کوچز کے اس عجیب و غریب انداز پر بات کرنی ہوگی جس نے کرکٹ جیسے عظیم کھیل کو فٹ بال کے میچ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے، جہاں میچ کے دوران باہر سے مسلسل اشارے کیے جاتے ہیں اور ہر تھوڑی دیر بعد پانی پلانے والے کھلاڑی کے ہاتھ پیغامات بھیج کر ٹیم کو چلایا جاتا ہے۔
یہ منظر دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گراؤنڈ میں موجود کپتان محض ایک کٹھ پتلی بن چکا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ، کوئی پلاننگ یا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ جب آپ ایک غیر ملکی کوچ کو میچ کا اتنا بڑا ’ماسٹر مائنڈ‘ بنا دیں گے کہ وہ گراؤنڈ کی صورتحال دیکھے بغیر باہر سے فیصلے مسلط کرے گا تو کھلاڑیوں کی اپنی قائدانہ صلاحیتیں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور ٹیم ایک بے جان مشین بن کر رہ جائے گی۔
رہی سہی کسر کپتان بابر اعظم کے اسٹرائیک ریٹ نے پوری کر دی ہے، جس پر آج ہر طرف تنقید ہو رہی ہے۔ جدید دور کی ٹی-20 کرکٹ جہاں پہلے اوور سے ہی دھواں دھار بیٹنگ کا تقاضا کرتی ہے، وہاں ہمارے سب سے بڑے بلے باز کا سست ترین کھیل پوری بیٹنگ لائن کے لیے بوجھ بن جاتا ہے اور جب ٹیم کا ستون ہی زمانے کے ساتھ چلنے کو تیار نہ ہو تو جیت کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح شاداب خان کو بطور آل راؤنڈر بار بار موقع دیا گیا حالانکہ ان کی کارکردگی نہ بیٹنگ میں نظر آئی اور نہ ہی باؤلنگ میں وہ پرانی کاٹ باقی رہی، لیکن اس کے باوجود ابرار احمد جیسے اسپیشلسٹ اسپنر کو باہر بٹھا کر ٹیم کے ساتھ دشمنی کی گئی۔
سب سے زیادہ دکھ آصف علی جیسے کھلاڑیوں کے لیے ہوتا ہے، جنہوں نے ہمیشہ اپنی ذات کے بجائے ملک کے لیے کھیلا۔ ہمیں وہ یادگار میچ نہیں بھولنا چاہیے جب افغانستان کے خلاف 12 گیندوں پر 24 رنز درکار تھے اور آصف علی نے ایک ہی اوور میں چھکے لگا کر ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ آج وہ ٹیم سے باہر ہیں کیونکہ وہ اپنے ذاتی اسکور یا ’چالیس پچاس‘ رنز کے لیے نہیں بلکہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق تیز کھیلنے کے لیے وکٹ گنواتے تھے۔ شاید اگر وہ بھی خودغرض ہو کر کھیلتے تو آج ٹیم کا مستقل حصہ ہوتے۔
یہ کون سی پالیسی ہے جہاں ملک کے لیے کھیلنے والوں کو نکال کر ان کو جگہ دی جاتی ہے جن کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی؟
شاہین شاہ آفریدی ہمارا سرمایہ ہیں، لیکن اگر وہ مکمل فٹ نہیں تھے تو انہیں زبردستی کھلا کر ان کا کیریئر داؤ پر کیوں لگایا گیا؟ سلیکشن کمیٹی میں عاقب جاوید اور اسد شفیق جیسے نام موجود ہیں جبکہ علیم ڈار استعفیٰ دے کر جا چکے ہیں، اب عاقب جاوید کو بھی پریس کانفرنس کرکے عوام کو بتانا چاہیے کہ کیا ان پر بھی اوپر سے دباؤ ہے؟
مرد وہ ہے جو کرسی پر بیٹھ کر حق کی بات کرے، نہ کہ جب تک اقتدار میں رہے تو سب اچھا تھا اور کرسی جاتے ہی سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جو کہ سراسر غلط تھا۔ شاہد آفریدی جیسے نڈر کھلاڑی اس سسٹم میں اس لیے نہیں ٹک سکے کیونکہ وہاں ناانصافی ہوتی ہے اور سچ بولنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
راشد لطیف جیسے سینئر کھلاڑی میڈیا پر بیٹھ کر اکثر درست نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک کرکٹ بورڈ کا ڈھانچہ درست نہیں ہوگا کچھ نہیں بدلے گا، اس لیے اب محسن نقوی صاحب کو واقعی وہ ’بڑی سرجری‘ کرنی ہوگی جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔
کرکٹ کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی-20 کے لیے بالکل علیحدہ ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو بغیر کسی سفارش کے موقع دیا جائے۔ کھلاڑیوں کے لیے سینٹرل کانٹریکٹ کو کارکردگی اور فٹنس سے مشروط کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی اپنی جگہ پکی نہ سمجھے۔
بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اب ٹیم کا اعلان ہو چکا ہے جس میں کچھ نئے چہروں کو شامل کیا گیا ہے اور کچھ پرانے کھلاڑیوں کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی اپنی ہوم کنڈیشنز میں یہ نیا اسکواڈ کس طرح کی کارکردگی دکھاتا ہے اور کیا یہ کھلاڑی دباؤ میں پرفارم کر پائیں گے یا وہی پرانی کہانیاں دہرائی جائیں گی۔
آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ عروج بخشے اور ہم سب کو دیانتداری کے ساتھ اپنا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارا ملک ہر میدان میں ترقی کر سکے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل