Saturday, April 04, 2026
 

پیٹرول بم، عوام کے صبر کا ایک اور امتحان

 



پٹرول کی نئی قیمتوں کا جیسے ہی اعلان ہوا، ملک بھر میں ایک ہی جملہ گونجنے لگا ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ یہ سوال کسی ایک شخص کا نہیں، بلکہ ہر اس پاکستانی کا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے سانس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک ساتھ 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کر کے قیمتوں کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اب پٹرول 458 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوچکا ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں۔ یہ عام آدمی کی زندگی پر پڑنے والا ایک اور بوجھ ہے۔ مہنگائی کی لہر، جو سب کچھ بہا لے جاتی ہے پاکستان میں پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی کا ٹینک مہنگا نہیں ہوتا، زندگی کا ہر پہلو مہنگا ہو جاتا ہے۔ صبح سبزی لینے جائیں تو قیمت بدلی ہوتی ہے، رکشہ لیں تو کرایہ بڑھا ہوتا ہے، بس میں بیٹھیں تو جیب پہلے سے ہلکی لگتی ہے۔ یہ اضافہ ایک زنجیر کی طرح پورے نظام کو جکڑ لیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، صنعت کی لاگت بڑھتی ہے تو روزگار متاثر ہوتا ہے، اور یوں مہنگائی ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس سے بچنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ حکومتی مؤقف اور عوام کا سوال حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب عالمی حالات کا نتیجہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے، یہ سب عوامل اس فیصلے کے پیچھے بتائے جا رہے ہیں۔ لیکن عوام کا سوال سادہ ہے: ہر بار قربانی صرف ہم ہی کیوں دیں؟ حکومت نے موٹر سائیکل سواروں، کسانوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے کچھ سبسڈی کا اعلان ضرور کیا ہے، مگر یہ ریلیف اتنا محدود ہے کہ عام آدمی تک اس کا فائدہ پہنچتا نظر نہیں آتا۔ اوپر سے طریقہ کار بھی واضح نہیں، جس سے شکوک مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ کہاں ہے؟ اگر گہرائی میں جائیں تو یہ بحران صرف عالمی قیمتوں کا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے معاشی ڈھانچے کی کمزوری کا بھی ہے۔ ہم آج بھی توانائی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کرتے ہیں، روپے کی قدر مسلسل دباؤ میں رہتی ہے، اور پالیسی سازی اکثر وقتی دباؤ کے تحت کی جاتی ہے۔ جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو تیل خود بخود مہنگا ہو جاتا ہے۔ جب سبسڈی ختم کی جاتی ہے تو بوجھ براہ راست عوام پر آتا ہے۔ اور جب کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں ہوتی، تو ہر بحران ہمیں پہلے سے زیادہ کمزور کر دیتا ہے۔ عام آدمی سب سے بڑی قیمت ادا کرتا ہے اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر وہ شخص ہے جو روز کما کر کھاتا ہے۔ وہ جو صبح موٹر سائیکل پر کام کے لیے نکلتا ہے، وہ جو بس میں سفر کرتا ہے، وہ جو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے۔ اب اس کے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش ہے۔ پٹرول مہنگا ہوا تو اس کی آمدنی وہی رہی، مگر اخراجات دگنے ہو گئے۔ متوسط طبقہ جو کبھی خود کو سنبھال لیتا تھا، اب آہستہ آہستہ اسی دائرے میں داخل ہو رہا ہے جہاں صرف گزارا کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ کیا پٹرول کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر تھا؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس صورتحال کا کوئی اور حل نہیں تھا؟ کیا حکومتی اخراجات میں کمی، اشرافیہ پر زیادہ ٹیکس، یا متبادل توانائی ذرائع پر تیزی سے کام نہیں کیا جا سکتا تھا؟ اگر ہر بحران کا حل صرف قیمتیں بڑھانا ہے، تو پھر یہ راستہ کب تک چلے گا؟ ایک کڑوی حقیقت حکومت اسے ’’مشکل مگر ضروری فیصلہ‘‘ کہتی ہے، مگر عوام کے لیے یہ فیصلہ ایک اور صدمہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ معیشت کی گاڑی صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی، بلکہ لوگوں کے اعتماد اور برداشت سے چلتی ہے۔ اور جب یہ برداشت حد سے بڑھنے لگے تو سوال صرف مہنگائی کا نہیں رہتا، بلکہ نظام پر اعتماد کا بن جاتا ہے۔ آج ہر گھر میں ایک ہی بحث ہے، ہر چہرے پر ایک ہی فکر ’’کل کا دن کیسے گزرے گا؟‘‘ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل