Saturday, April 04, 2026
 

باڑہ میں چھت گرنے سے 5 افراد زخمی، متعدد مویشی ہلاک

 



قبائلی ضلع خیبر کے علاقے باڑہ کے سورڈھنڈ میں کمرے کی چھت گرنے سے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر ڈوگرہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات مسلسل بارش کے باعث مکان بوسیدہ ہو گیا تھا جس کے باعث چھت اچانک گر گئی۔ ادھر ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے متعدد مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ چھتیں گرنے سے مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ملبے سے تیس کے قریب مویشی نکال لیے گئے ہیں۔ بالائی علاقوں میں حالیہ بارشوں کے باعث دریائے کابل میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ ضلعی افسران اور ریسکیو ٹیمیں حساس اور کمزور مقامات کی مسلسل نگرانی کے ساتھ ساتھ ہنگامی مشقوں میں مصروف ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے عوام الناس، خصوصاً دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کناروں پر آباد مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کریں اور اپنے مال مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل رکھیں۔ مزید برآں دفعہ 144 کے تحت دریاؤں میں نہانے، کشتی رانی، مویشی چرانے اور غیر ضروری آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ حالیہ بارشوں کے باعث شہر کے مختلف نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جس کے بعد ریسکیو 1122 پشاور کی ٹیموں نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے ورسک روڈ، بورڈ بازار، شاہین ہاؤسنگ، پشاور چارسدہ روڈ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پھنسے درجنوں افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق سردار گڑھی اور مدینہ کالونی میں امدادی آپریشن تاحال جاری ہے جہاں گھروں میں محصور افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ متاثرین میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جنہیں ترجیحی بنیادوں پر نکال کر محفوظ جگہوں تک پہنچایا گیا، جبکہ اسکول کے بچوں کو بھی بروقت ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر افتخار خان خود امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل مختلف علاقوں میں آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل