Loading
جس خطے میں ’’کاری‘‘ ، سیاہ کاری کی تہمت لگی عورتوں کا قبرستان الگ ہو اور وہاں دفن کی گئی عورتوں کے لیے دعا مانگنا اور فاتحہ پڑھنا تو دور کی بات، اس قبرستان میں جانا بھی ممنوع ہو، وہاں عورتوں کا عالمی دن منانا بھی ایک انتہائی اہم قدم ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو کوئی بھی اس قبرستان کو دیکھنے، پرکھنے اور اس پر تحقیق کرنے جاتا ہے اور اس کے بارے میں کوئی بات میڈیا پر آتی ہے تو اس پر تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں کہ وہ سندھ کی دانش کو بدنام کر رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ جو بھی اس گھناؤنی روایت پر تنقید کرتا ہے اس کے خلاف بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی تیر اور کلہاڑیاں لے کر نکل پڑتے ہیں۔
حالانکہ سرکاری سطح پر یہ قانون سازی ہو چکی ہے کہ ایسے مقدمات وارثوں کے بجائے ریاست کی مدعیت میں درج کیے جائیں گے، مگر اس گھناؤنی رسم کے خاتمے کے لیے اب بھی ایک واضح حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ابھی مائی مختاراں اور رانی پور کی فاطمہ فرڑو کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا معاملہ ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ حال ہی میں چوٹیاریوں (سانگھڑ) میں ایک سولہ سالہ غریب ملاح خاندان کی لڑکی شاد بانو ملاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد اس کے چہرے کو بلیڈ سے کاٹ دیا گیا، جو ایک لرزہ خیز واقعہ ہے۔
ایسے انسانیت سوز واقعات کے باوجود انھیں روکنا شاید اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں۔ خاص طور پر بااثر پیر اور میر اکثر قانون سے بچ نکلتے ہیں۔ عورتوں کے ساتھ زیادتی کے بہت سے واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
اگرچہ حکومت نے حال ہی میں گھریلو تشدد کے خلاف بل منظور کیا ہے، مگر اصل مسئلہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ اسی طرح جب حال ہی میں قومی اسمبلی نے شادی کے لیے عمر کی حد اٹھارہ سال مقرر کی تو مذہبی حلقوں میں سے بعض نے نہ صرف اس کی مخالفت کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اگرچہ ہر سال 8 مارچ کو پوری دنیا میں عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ دن صرف ایک تقریب نہیں بلکہ اس عزم کا نام ہے کہ معاشرے میں عورتوں کو برابری کے حقوق، عزت، وقار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں، لیکن اس کے باوجود عورتوں کے خلاف زیادتیوں کے واقعات کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔
سال 2026 میں اس دن کا موضوع اقوام متحدہ کی جانب سے ’’حقوق، انصاف اور عمل: تمام عورتوں کے لیے‘‘ چنا کیا گیا ہے۔
عورتوں کے عالمی دن کی ابتدا بیسویں صدی کے آغاز میں محنت کش خواتین کی تحریکوں سے ہوئی۔ 1908 میں نیویارک کی سڑکوں پر ہزاروں عورتوں نے اپنی تنخواہوں میں اضافے، ووٹ کے حق اور کام کے اوقات میں کمی کے لیے احتجاج کیا۔
اس تحریک میں ایما گولڈمین اور لوسی پارسنز نے اہم کردار ادا کیا۔ برطانیہ میں مشہور سفراگیٹ تحریک چلی جس کے نتیجے میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق ملا۔ 1975 میں اقوام متحدہ نے سرکاری طور پر اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔
سندھ کی تہذیب اور تاریخ میں عورتوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کا تعلق بھی سندھ سے ہے، جب کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں کھیتوں میں کام کرنے والی ہاری عورتوں اور سندھ کی بیٹیوں نے ہر موڑ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
اسی طرح شہروں میں خواتین صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
قانونی پیش رفت کے حوالے سے سندھ حکومت نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور گھریلو تشدد کے خلاف اہم قانون سازی کر کے پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔
اقتصادی طور پر سندھ کی لاکھوں عورتیں دستکاری، زراعت اور اب ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں، مگر اب بھی آبادی کے تناسب سے کئی شعبوں میں انھیں اپنا جائز حق حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ اس کے لیے انھیں اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔
آج کے دور میں جہاں ہم ٹیکنالوجی اور سائنس میں ترقی کر چکے ہیں، وہاں عورتوں کو اب بھی کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
ایک عورت کو موٹروے پر سفر کے دوران اغوا کر کے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایسے کئی واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں کہ دفن شدہ عورتوں کی لاشیں قبروں سے نکال کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
عورت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی کئی علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، جب کہ ایک ہی کام کے لیے عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
عورتوں کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک خوشحال معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب عورت کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہو۔ ہمیں چاہیے کہ عورتوں کی تعلیم، صحت اور حقوق کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔
اس مقصد کے لیے اسمبلیوں میں بیٹھی خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کریں۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ’’اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک فرد کو تعلیم دیتے ہیں، لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو آپ ایک پوری نسل کو تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل