Saturday, March 07, 2026
 

امریکی اجازت سے روسی تیل کی خریداری، بھارت کی نام نہاد خودمختاری کا پردہ چاک ہوگیا

 



روس سے تیل کی خریداری کی عارضی امریکی اجازت نے بھارت کی نام نہاد خودمختار پالیسی کا پردہ چاک کردیا۔ امریکہ بھارت تجارتی معاہدے کے بعد نااہل مودی کو ملک کی معاشی خودمختاری داو پر لگانے کا ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے خلیجی جنگ کے پیش نظر بھارت کو 30 روز کیلئے روس سے تیل کی خریداری کی اجازت دی ہے۔ کانگریسی رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ کیا اب امریکہ فیصلہ کرے گا کہ ہم نے کس سے تیل خریدنا ہے؟  چٹا پور سے  کانگریسی ایم ایل اے پریانک کھڑگے نے ایکس پر پیغام میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیکرٹری خزانہ بھارت کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے والے کون ہوتے ہیں؟بھارتی حکومت ہر امریکی حکم پر کیوں جھک رہی ہے؟  پریانک کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی نے  بھارتی خارجہ پالیسی کو مذاق بنا دیا، مودی حکومت کو کچھ حوصلہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق معرکہ حق میں شکست کے اسٹریٹیجک اثرات عام بھارتی شہری تو محسوس کررہا ہے مگر بھارتی حکومتی حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو سے بچنے کیلئے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی اور خودمختاری پر مسلسل سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔ اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکہ کی منظوری سے مشروط ہیں تو یہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل