Saturday, March 07, 2026
 

امریکا ایران جنگ اور پاکستان کا چیلنج

 



امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا ۔مذاکرات کی کہانی محض دکھاوے کا کھیل ثابت ہوئی اور جیسے یہ کہا جاتا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ہر صورت ایران کی داخلی سیاست میں وہاں کی حکومت کا خاتمہ یا رجیم چینج چاہتے ہیں۔ اسی طرح ایران کا ایٹمی پروگرام بھی ان کا نشانہ ہے ۔لیکن یہ سب کچھ ایک ایسے وقت پر ہوا جب امریکا نے بیشتر مسلم ممالک کو اعتماد میں لے کر غزہ امن بورڈ بنایا مگر اب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ کے بعد اس غزہ امن بورڈ کی اہمیت بھی ختم ہوگئی ہے ۔ یہ جنگ محض امریکا ،اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس جنگ نے دیگر خلیجی ممالک اور مجموعی طور پر پوری مڈل ایسٹ کی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد جس طرح سے خلیجی ممالک کو میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا، اس سے سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہیںاور وہ ایران کی جانب سے اپنے ملکوں پر میزائل حملوں پر سخت تحفظات رکھتے ہیں ۔ ادھر ہمیں اس وقت افغانستان کی جانب سے براہ راست جنگ یا دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ بھارت کی چال بازیاں الگ ہیں ،اس تناظر میں یقینی طور پر امریکا اور اسرائیل کاایران پر جنگ مسلط کرنا اور ایران کا خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی سے خود پاکستان کے لیے بھی نئی مشکلات کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کیونکہ جب بڑی طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں جنگ کا حصہ بنتی ہیں تو ہمارے جیسے ممالک خود کو اس جنگ کے اثرات سے دور نہیں رکھ سکتے۔ ایسے میں ہماری سفارتی سطح کی ڈپلو میسی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور بالخصوص ہم کیسے اس جنگ کے ماحول میں ایک ایسی متوازن پالیسی اختیار کرسکیں جو ہمارے سمیت سب کے لیے قابل قبول ہو۔ لیکن توازن پر مبنی پالیسی اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا اور اس کے لیے ہمیں یقینی طور پر سفارت کاری کی بنیاد پر غیرمعمولی اقدامات اور سوچ و فکر اختیار کرنا ہوگی ۔کیونکہ ہم خطہ کی سیاست میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ کے بعد ایران کی اپنی صورتحال کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتے اور نہ ہی خود کو ایران سے علیحدہ رکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم ایک طرف ایران سے تعلقات کی بہتری کے خواہش مند ہیں تو دوسری طرف امریکا اور خود عرب دنیا یا خلیجی ممالک سے بھی بہتر تعلقات رکھنا ہماری اپنی ضرورت اور مفاد کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم ایران پر حملے کی مذمت کررہے ہیں ، خلیجی ممالک پر یرانی حملوں پر براہ راست ایران پر تنقید سے گریز کی پالیسی پر چل رہے ہیں ۔یقینی طور پر اس میں ہماری کچھ سفارتی اور سیاسی مجبوریاں ہیں اور ہم اس عمل میں سب کو ساتھ لے کر چلنے اور ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے کی پالیسی رکھتے ہیں ۔ پاکستان کی یہ پالیسی کافی حد تک وقتی طور پر بجا ہے اور ایسے ہی درمیان سطح کا راستہ نکالا جاسکتا تھا لیکن خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکا اسرائیل کی یہ جنگ ایران کے خلاف اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے بڑھتے ہیں یا جنگ طوالت کا شکار ہوتی ہے تو ہمارے لیے پھر اس دو طرفہ مفاہمتی پالیسی کو لے کر چلنا خاصہ مشکل ہوجائے گا اور عالمی دنیا یا خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب ہم سے واضح پالیسی کی کو اختیار کرنے پر زور دے سکتا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو تعلقات ہیں یا جونئے اسٹرٹیجک معاملات ہیں اس میں ہمیں ہر سطح پر سعودی عرب کے ساتھ بھی کھڑا ہونا ہے ۔اب سوا ل یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی قیادت اس جنگ کے ماحول میں کوئی بڑی سفارت کاری کرکے جنگ کو بند کرانے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ یعنی کیا ہم امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرسکتے ہیں یا مسلم ممالک جو غزہ کی سطح پر امریکا کے ساتھ امن بورڈ کا حصہ بنے ہیں امریکا کو پابندکرسکتے ہیں کہ وہ ایران پر جنگ بندی کرے ۔ اسی طرح کیا ہم ایران کو بھی پابند کرسکتے ہیں کہ وہ خلیجی ممالک کے بارے میں حملوں کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور کوئی ثالثی کا راستہ اختیار کرے ۔یہ سب کچھ تب ہی تو ممکن ہوگا جب امریکا اور اسرائیل کا باہمی گٹھ جوڑ ایران مخالف جنگ بندی کی طرف پہل کرے گا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مسلسل ایران کو دھمکیاں اور ان کی سپریم لیڈر شپ کو ختم کرنے کے کھیل اور مزید طاقت کی حکمت عملی کے بعد کیا عملی طور پر صورتحال کی بہتری کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہ بات کافی حدتک بجا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں پاکستان کی عالمی دنیا میں حیثیت بڑھی ہے اور ہمیں اس کے کئی حوالوں سے فائدہ بھی مل رہا ہے ۔لیکن حکومت اور ہمارے سفارت کار اس بات کو بھی مد نظر رکھیں کہ تمام تر عالمی دنیا میں بہتر پزیرائی کے باوجود ہماری داخلی صورتحال جس میں خاص طور پر سیکیورٹی،دہشت گردی، کمزور معیشت اور داخلی سیاسی استحکام کی وجہ سے ہم بہت کچھ کرنے کی خواہش کے باوجود کچھ کرنے کی سطح پر مسائل کی زد میں ہوںگے ۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ ہم ان حالات میں اپنی سفارت کاری کے فیصلے بغیر کسی بڑے دباؤ کے کرسکیں گے عملا درست نہیں اور ان فیصلوں میں بڑی طاقتوں کا عمل دخل زیادہ ہو گا۔ پاکستان جس کی کوشش ہے کہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت کی مدد سے راستہ نکلے لیکن اس کو اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے امریکا اور ایران کے درمیان جب مذاکرات کا عمل چل رہا تھا اور اس میں خود ایران کا طرز عمل بھی مثبت تھا تو جنگ کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور کیا کسی بھی سطح پر امریکا کی جوابدہی ہوسکتی ہے یا ہم ان بڑی عالمی طاقت کے سامنے خاموش ہی رہ سکتے ہیں ۔ پاکستان کو ایک بات یہ سمجھنی ہوگی کہ یہ جنگ محض ایران تک محدود نہیں ہوگی ۔ اس وقت امریکا کی یہ حکمت عملی بھی ہوگی کہ وہ خلیجی ممالک کی طرف ایران کے حملوں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ خلیجی ممالک کی سطح پر ایران کی مخالفت بڑھے اور خود پاکستان کو ایک حد تک ایران کی حمایت تک محدود کیا جاسکے اور خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان پر بھی دباؤ بڑھے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اس جنگ کو شروع کرکے امریکا اور اس کے اتحادی اسرائیل نے عالمی جنگ قوانین کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اگر جنگ میں طوالت ہوتی ہے تو ہمیں اس جنگ کے تناظر میں داخلی سیاست اور معیشت کی سطح پر کچھ بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جن میںتیل کی ممکنہ قلت ،قیمتوں میں اضافہ،فضائی پابندیوں یا رکاوٹوں سمیت سفری نظام میں مشکلات پیدا ہوںگی جو معیشت پر منفی اثرات ڈالنے کا سبب بن سکتی ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی انتباہ کیا ہے کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو نہ صرف ملکی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی کرنٹ خسار بھی بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب اس بات کے امکان بھی بڑھ رہے ہیں کہ اول امریکا کے لیے ایران میں رجیمم کی تبدیلی آسان نہیں ہوگی اور ان کے سربراہ کی شہادت نے ایک سطح پر امریکا اور اسرائیل کی نفرت میں تقسیم قوم کو ایک کردیا ہے۔ دوئم اگر امریکا ایران میں تبدیلی لانے میں کامیاب بھی ہوتا ہے تو ممکنہ نتائج ملنا آسان کام نہیں اور یہ جنگ فرقہ واریت میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے اور خود اس جنگ سے امریکا اور اسرائیل کی نفرت میں عالمی سطح پر اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان کے لیے بھی بات اہمیت رکھتی ہے کہ اگر واقعی ایران میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو نئی بننے والی حکومت کے خود پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔ بہرحال ہم ایک مشکل مرحلے میں ہیں اور ہمیں بہت جلد یا جذباتی بنیاد پر فیصلے کرنے کی بجائے وقت کا انتظار کرنا ہوگا کہ اور دیکھنا ہوگا کہ آنے والے اگلے چند دنوں میں حالات کا رخ کس طرف جاتا ہے ۔ مگر ایک طرف افغانستان سے جنگی حالات اور دوسری طرف حالیہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مہم جوئی نے پوری عالمی سیاست کی سطح پر بہت کچھ تبدیل کردیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل