Loading
دنیا کے نقشے پر بعض مقامات ایسے ہوتے ہیں جو جغرافیے سے کہیں بڑھ کر عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے محور بن جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی انھی میں سے ایک ہے۔ خلیج فارس کو عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملانے والی یہ تنگ سمندری گزرگاہ بظاہر ایک جغرافیائی راستہ ہے، مگر درحقیقت یہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔
دنیا کی کو متحرک رکھنے والی تیل اور گیس بحری جہازوں کے ذریعے اسی راستے سے گزرتے ہیں، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
عالمی توانائی کی تجارتی منڈی میں آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر شامل ہیں اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی اکثر آبنائے ہرمز کے گرد ہونے والی سیاسی یا عسکری کشیدگی سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر یہاں کسی وجہ سے آمد و رفت متاثر ہو جائے تو اس کا اثر نہ صرف توانائی کی قیمتوں بلکہ عالمی معیشت کے استحکام پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اسی وجہ سے آبنائے ہرمز عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی رہتی ہے۔ اس خطے میں ایران کا جغرافیائی اثر و رسوخ اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے شمالی ساحل ایران کے زیرِ نگیں ہیں، جب کہ جنوبی ساحل عمان کے پاس ہیں۔
دوسری طرف امریکا اور اس کے اتحادی خلیج میں اپنی بحری موجودگی کو عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ یوں یہ علاقہ صرف جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن، علاقائی مفادات اور عالمی حکمتِ عملی کا میدان بھی بن جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز تقریبا 21 میل چوڑی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ دنیا بھر میں تیل کی کل رسد کا بیس فیصد اس آبنائے سے گذرتا ہے۔
تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا نام فارس کے بادشاہ شاپور دوم کی والدہ ’’افیرا ہرمز‘‘ کے نام پر رکھا گیا، جنھوں نے 309 اور 379 عیسوی کے درمیان حکومت کی تھی۔
ابنائے ہرمز کے اوپر والے سرے پر ’’کیلائی جزیروں‘‘ کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے ’’کالون‘‘ کہتے ہیں، یہاں سے خلیج فارس کا منہ شروع ہوتا ہے، یہ وہی جگہ ہے، جہاں قیمتی موتیوں کے حصول کے لیے غوطہ خوری کی جاتی ہے۔
آبنائے کے بائیں جانب آسابون کہلانے والے پہاڑ ہیں اور دائیں جانب ایک اور گول اور اونچا پہاڑ جس کا نام سیمیرامس ہے۔اس سے آگے بڑا اور وسیع سمندر، خلیج فارس ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ ’’اورمز‘‘ کا مطلب کھجور ہے۔
اکثر ماہرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی جنگ یا شدید سیاسی بحران کے باعث آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ سوال اب مفروضہ نہیں بلکہ ابنائے ہرمز کے بند ہونے سے اب عالمی اقتصادی نظام ہل کر رہ گیا ہے، صرف پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 55 روپے لیٹر اضافہ ہوا ہے اور ایک اطلاع کے مطابق اس وقت امریکا میں تیل کی قیمتیں 98 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہیں۔
اس راستے کی بندش کا مطلب یہ ہوگا کہ خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات فوری فوری طور پر بند ہونے سے گیس اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، یوں ایک تنگ سمندری راستے کے بند ہونے سے پوری عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہے۔
خلیج میں کسی بھی قسم کی عسکری یا سیاسی کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح تک پھیل جاتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی کم نہیں۔ پاکستان کی ساحلی پٹی اور خصوصاً گوادر پورٹ اس خطے کے قریب واقع ہیں۔
گوادر کو اکثر ماہرین مستقبل کے ایک اہم تجارتی اور توانائی مرکز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر خطے میں استحکام برقرار رہے اور علاقائی تعاون کو فروغ ملے تو پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کو معاشی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
گوادر نہ صرف وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ بن سکتا ہے بلکہ یہ عالمی تجارتی راستوں کے لیے بھی ایک متبادل دروازہ فراہم کر سکتا ہے۔
عالمی سیاست میں جغرافیہ محض نقشے کی حد تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ریاستوں کی تقدیر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جدید دنیا میں جغرافیہ اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایک تنگ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی شہ رگ بھی بن سکتی ہے اور عالمی کشیدگی کا مرکز بھی۔
اس لیے عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون، سفارت کاری اور استحکام کو ترجیح دے۔ کیونکہ اگر اس حساس راستے کا امن متاثر ہوا تو اس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے ارتعاش کو محسوس کرے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل