Wednesday, March 11, 2026
 

بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنے پر 5 پاکستانی گرفتار، سخت سزاؤں کا خدشہ

 



بحرین کی وزارت داخلہ نے ایرانی حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں پانچ پاکستانی شہریوں سمیت چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں محمد معز اکبر، افضل خان، احمد ممتاز، ارسلان علی ساجد اور عبدالرحمان عبدالستار شامل ہیں جو پاکستانی شہری ہیں جبکہ محمد اسرافیل میر بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ بحرینی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایرانی حملوں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں اور اس طرح ’دشمنی کے اقدام سے ہمدردی ظاہر کی اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا‘ جس سے ملک میں امن و امان اور سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ حکام کے مطابق یہ ویڈیوز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی گئیں جس کے باعث شہریوں میں خوف اور گمراہی پھیل سکتی تھی۔ تمام ملزمان کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب منامہ میں پاکستانی سفارتخانے نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے کی ویڈیو یا تصاویر بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ بحرین میں ایسا کرنا قانوناً جرم ہے اور اس پر سخت سزائیں ہو سکتی ہیں۔ بحرینی حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی میزائل کے ملبے یا حملے کے مقام کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا حساس معلومات افشا کر سکتا ہے اور سکیورٹی کارروائیوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ قطر میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز کے ذریعے مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلانے پر 300 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ کویت میں بھی اسی طرح کے الزامات پر تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل