Wednesday, March 11, 2026
 

190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطی کی درخواست: عدالت نے نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ کردیا

 



اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے کی، بیرسٹر سلمان صفدر اور اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے پاور آف اٹارنی بانی پی ٹی آئی سے تصدیق کروانے کے لیے کھوسہ صاحب کو بھجوایا، وکالت نامہ کے حصول کے لیے انہیں اڈیالہ جیل کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا، کل عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وکالت نامہ دستخط کروا کر دیں گے، یہ کسی عدالت کو نہیں مانتے، میرا وکالت نامہ دستخط شدہ نہیں اس لیے میں پیش نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو کوئی بھی وکالت نامہ بھیجتا ہے وہ دستخط کروا دیتے ہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اس پر سخت ایکشن لینا چاہیے، انہیں کون سمجھائے، سمجھاتے ہیں تو کہتے ہیں ہمیں اوپر سے حکم ہے، کہتے ہیں جنرل فیض حمید کو سزا ہوگئی ہے احتساب شروع ہوگیا ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوچکا ہے عید سر پر ہے، خواتین کے لیے ہمیشہ عدالت نے نرم گوشہ رکھا ہے، 14 ماہ بعد سزا معطلی کی درخواستیں لگی ہیں، مجھے کلائنٹ نے کبھی نہیں کہا میڈیکل گراؤنڈ پر کیس لڑیں، آج آپ کی عدالت کا ہی فیصلہ پیش کرنا ہے، آپ نے ملتان بینچ میں ایک شخص کی بینائی جانے پر قتل کے مقدمے میں ضمانت دی تھی، میرے کلائنٹ کی تو چودہ سال کی قید ہے، آج پراسیکیوٹر موجود نہیں ہیں۔ رافع مقصود نے کہا کہ وہ بطور اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عدالت میں موجود ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سزا معطلی کی درخواست کی قابل سماعت ہونے پر ایک متفرق درخواست دائر کی ہے، ہماری متفرق درخواست پر جواب دے دیں، ہم ان کی متفرق درخواست پر جواب جمع کروا دیں گے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہم صرف سماعت مانگ رہے ہیں نتیجہ نہیں مانگ رہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہاں تاریخ ہی نہیں ملتی، میں اس عمر میں عدالت کے سامنے کھڑا ہوں۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پراسیکیوٹر موجود ہیں جنہوں نے دلائل دینے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا نہیں سر ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا ہم نے تو میڈیکل کا کہا ہے، نیب کیا مانگ رہی ہے وہ یہ بتا تو دیں، ہماری میڈیکل گراؤنڈ اضافی ہوگی۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا 65 دن بالکل تنہا رکھا گیا کسی فیملی سے یا وکلا سے نہیں ملنے دیا گیا، اس دوران آنکھ کا مسئلہ ہوا ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہم جیل جاتے تھے اور دھلائی بھی ہوتی تھی، میں پندرہ دن کے لیے جیل گیا تھا، ساتویں دن یہ حالت تھی کہ ٹائم دیکھتا تھا نہ پتا چلتا صبح کے پانچ ہیں یا رات کے، یہ ایک ٹارچر ہے، آپ قید تنہائی پر ایک فیصلہ دے دیں نسلیں یاد رکھیں گی۔ نیب نے کہا کہ قید تنہائی کی درخواست ہے تو ہمیں نوٹس جاری کریں تو ہم جواب دیں گے، مناسب وقت دے دیں اور نوٹس کریں ہم جواب دے دیں گے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا آج اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں موجود کیوں نہیں ہے، یہ دلائل دینے سے کیوں بھاگ رہے ہیں، میری نظر میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست گزار کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا، یہ بانی پی ٹی آئی کو کسٹڈی میں رکھنا چاہتے ہیں، ایک آنکھ ضائع کررہے ہیں دوسری کا ارادہ ہے، یہ عدالت کی معاونت نہ کریں آپ ہمیں سن کر جو فیصلہ دینا ہے ہماری جھولی میں ڈال دیں، سماعت ملتوی نہیں ہونی چاہیے۔ نیب نے کہا آپ کی متفرق درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا اپیل ایڈمٹ ہوچکی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا یہ خوامخواہ ہم پر الزامات لگا رہے ہیں۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا اپیل ایڈمٹ ہے اور اس کیس کا عید سے پہلے فیصلہ ہونا چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ نو بار برداشت کیا ہے دسویں بار برداشت نہیں ہوسکتا۔ نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ ہماری متفرق درخواست دیکھ لیں پھر ہم دلائل دینے کے لیے تیار ہیں جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ سماعت ملتوی کردی جائے اور اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل دے دیں گے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہم چاہتے ہیں جلد فیصلہ ہو جائے، اس میں انہوں نے بے ہودگی کی ہے کہ ایک وکیل کا وکالت نامہ دستخط نہیں کرنے دے رہے ہیں، میں بغیر وکالت نامہ کے دلائل نہیں دے سکتا، آپ مجھے چھوڑیں بیرسٹر سلمان صفدر کو سنیں، ویسے بھی رمضان میں رہا کرنا ثواب کا کام ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں موجود نہیں ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے استدعا کی ہے کہ نیب پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لیے نیب پراسیکیوٹر عدالت میں موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم حاضری پر نیب پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ آئندہ سماعت پر نیب اسپیشل پراسیکیوٹر پیش ہو جائیں گے۔ عدالت نے نیب کی متفرق درخواست پر بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو نوٹس جاری کردیے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی جبکہ پی ٹی آئی وکلا نے آئندہ سماعت کی تاریخ لینے کی کوشش شروع کردی۔ سماعت ملتوی ہونے کے بعد پی ٹی آئی وکلا نے آئندہ سماعت کی تاریخ لینے کی کوشش شروع کردی، بیرسٹر اعتزاز احسن ، سلمان اکرم راجا ، عمران خان کی بہنیں سیکریٹری آفس کے باہر موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آئندہ کی تاریخ کے حوالے سے بات کرنی ہے ، بانی کی بہنیں چیف جسٹس کے سیکریٹری آفس چلی گئیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل