Wednesday, March 11, 2026
 

آبنائے ہرمز میں ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 13 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

 



مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث اہم سمندری راستوں پر حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور حالیہ رپورٹ کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک متعدد تجارتی جہاز نشانہ بن چکے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم مانیٹر  کا کہنا ہے کہ اسے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم تیرہ تجارتی جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق اس کے علاوہ چار مشکوک سرگرمیوں کی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے سمندری علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی مجموعی تعداد سترہ تک پہنچ گئی ہے۔ یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں تین تجارتی جہازوں سے نامعلوم پروجیکٹائل ٹکرانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک کارگو جہاز، جو عمان کے شمالی سمندری علاقے میں موجود تھا، کو بھی نامعلوم پرجیکٹائل لگا جس کے بعد جہاز کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق اس جہاز پر موجود عملے کو فوری امدادی کارروائی کے دوران بحفاظت نکال لیا گیا اور انہیں قریبی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ یہی راستے عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور سیکیورٹی اداروں نے خطے میں موجود جہازوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ کئی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستوں میں تبدیلی پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل