Wednesday, March 11, 2026
 

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی سیاست

 



صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انھیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت طویل جنگ نہیں چاہتی۔روسی صدر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور ثالثی کی پیش کش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔  مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نہایت حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف اس خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات، ایران کی جانب سے جوابی انتباہات اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے اس تنازع کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کے نزدیک یہ محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا بحران بن سکتا ہے جس کے اثرات عالمی نظام، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے مرتب کریں گے۔  آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اسی گزرگاہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی جب جنگی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں صورتحال میں معمولی بہتری آنے پر قیمتیں کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر تک آ گئیں، لیکن اس اتار چڑھاؤ نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی معیشت کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔  امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ایرانی تیل کے ذخائر پر حملے نہ کرنے کا مشورہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیلی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانا مستقبل میں توانائی کی سیاست کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا یہ نہیں چاہتا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے تیل کے وسائل مکمل طور پر تباہ ہو جائیں کیونکہ مستقبل میں یہی وسائل خطے میں توانائی کے توازن اور عالمی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جنگ کی شدت کو اس حد تک نہ بڑھنے دیا جائے جہاں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے۔دوسری طرف امریکی بحریہ کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے سے انکار بھی اس خطے میں موجود خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے امریکی نیوی سے درخواست کی تھی کہ انھیں اس حساس راستے سے گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے لیکن امریکی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور اس وقت اس طرح کی سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال نے عالمی تجارت اور شپنگ انڈسٹری میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اگر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران پر حالیہ فضائی حملوں نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف عسکری اور اسٹرٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ ایران بھی جوابی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اس صورتحال میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی قیادت کی جانب سے اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ طویل جنگ نہیں چاہتی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسی دوران سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ روسی صدر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے رابطہ کر کے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ روس اس خطے میں ایک اہم عالمی طاقت کے طور پر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات بھی ہیں۔ اس لیے اگر روس کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ اس بحران کے حل کے لیے کوئی سفارتی راستہ نکل آئے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا موقف بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ایران کے عوام اور قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت ایران کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ پاکستان کا یہ موقف اس کی روایتی خارجہ پالیسی کے مطابق ہے جس میں وہ خطے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور علاقائی امن کے فروغ کی کوشش کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال دراصل عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تصادم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ امریکا خطے میں اپنی اسٹرٹیجک برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے جب کہ ایران خود کو خطے میں ایک اہم اور خودمختار طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ ان تمام مفادات کے ٹکراؤ نے اس خطے کو مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی فراہمی پر پڑے گا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی معیشت پہلے ہی مختلف اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کو حل کر سکتا ہے،اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت شروع ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف اس جنگ کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے سخت موقف میں کچھ لچک پیدا کریں اور مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی قابلِ قبول حل تلاش کریں۔ آخرکار یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں۔ موجودہ بحران دراصل ایک آزمائش ہے، نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے بھی، اگر اس مرحلے پر دانشمندی، صبر اور تدبر کا مظاہرہ کیا گیا تو ممکن ہے کہ یہ بحران ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بن جائے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کی سیاست غالب رہی تو اس کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل